صنعا، 14 اگست (یو این آئی) حالیہ دنوں میں یمن کی مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت آنے کے بعد فوجی اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن 2022 میں جنگ بندی کے بعد سے کسی بھی وقت کے مقابلے میں دوبارہ مکمل جنگ کے زیادہ قریب پہنچ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرونڈبرگ نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں یمن کے منجمد محاذوں پر فوجی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، جبکہ حملوں کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں اور شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان مأرب، حضرموت، المخا اور دیگر علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
عدن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز نے طائز میں حوثیوں کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ بدھ کو حکومت نے متعدد گورنریٹس میں حوثی فورسز کے خلاف توپ خانے اور ڈرون حملوں کی بھی اطلاع دی۔
بدھ کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے ہر اقدام کا جواب ’’جامع کارروائی یا مؤثر روک تھام‘‘ کے ذریعے دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور ایک مضبوط جنگ بندی کی جانب پیش رفت کرنے کی اپیل کی۔
گرونڈبرگ نے خبردار کیا کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر دوبارہ حملے یمن کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر علاقائی کشیدگی میں بھی گھسیٹ سکتے ہیں۔انہوں نے یمنی معیشت کے لیے ’’اقتصادی کشیدگی میں کمی‘‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی کے باعث شدید تباہ ہوچکی ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ تجارتی جہازوں کی یمنی بندرگاہوں تک رسائی یقینی بنانے، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ صنعاء ایئرپورٹ سے تجارتی پروازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر تنازع کے دونوں فریقوں کو ’’محاذ آرائی کے مقابلے میں تعاون سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا‘‘۔
یمن 2014 سے تنازع میں گھرا ہوا ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں اگلے سال سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مداخلت ہوئی، جو کئی سال تک جاری رہنے والی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے 2022 میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو اب تک بڑی حد تک برقرار رہی ہے۔ گرونڈبرگ کے مطابق، جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے معاہدے کی جانب پیش رفت 2023 میں رک گئی، جب خطے میں وسیع تر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
یمن میں لڑائی میں شدت ملک کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بدتر بنا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ یمن کی نصف سے زیادہ آبادی کو مناسب خوراک تک قابلِ اعتماد رسائی حاصل نہیں، جبکہ 60 لاکھ افراد کو ’’ہنگامی‘‘ سطح کی غذائی قلت کا سامنا ہے جو قحط کے قریب ہے۔
فلیچر نے کہا کہ خواتین اس تنازع کی خاص طور پر بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں اور ہر روز تین خواتین حمل اور زچگی سے متعلق قابلِ انسداد پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوتی ہیں۔
برطانوی حکومت نے جمعرات کو انسانی بحران کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیا اور بین الاقوامی بحری جہازوں پر گروپ کے مہلک حملوں اور سعودی عرب پر براہِ راست حملوں پر تنقید کی۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کی مستقل نمائندہ سارہ میک انٹوش نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’’حوثیوں کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے خطے میں تشدد میں سنگین اضافہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ یمنیوں کی مشکلات کم کرنے اور امن کے حصول کی کوششوں پر توجہ دیں، بجائے اس کے کہ یمن کو وسیع تر علاقائی تنازع میں الجھانے کی کوشش کریں۔
جمعرات کو حوثیوں نے سعودی عرب کے صوبہ جازان میں ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
حوثیوں کے ایک فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے صعدہ اور حجہ صوبوں میں یمنی فضائی حدود اور خودمختاری کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا گیا۔
20 جولائی کو حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے دونوں جانب سے ڈرون، فضائی اور میزائل حملوں کے تبادلے کا یہ ریفائنری حملہ تازہ ترین واقعہ ہے۔








