لوساکا، 13 اگست (یو این آئی) زیمبیا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوگئی ہے، جہاں صدر ہاکائندے ہچلیما دوسری مدت کے حصول کے لیے میدان میں ہیں۔
زیمبیا کے شہریوں نے جمعرات کی صبح 6 بجے (04:00 جی ایم ٹی) ووٹ ڈالنے کا آغاز کیا۔ انتخابات میں معاشی مسائل مرکزی موضوع ہیں۔
پولنگ 12 گھنٹے بعد بند ہونے کی توقع ہے۔ ملک میں 87 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔
انتخابات میں یہ جانچا جائے گا کہ ہچلیما حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اقتصادی اصلاحات زندگی کے بڑھتے اخراجات سے متعلق عوامی خدشات پر قابو پانے کے لیے کافی ثابت ہوئی ہیں یا نہیں۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، زیمبیا کی 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی میں سے 70 فیصد سے زیادہ افراد روزانہ 3 ڈالر سے بھی کم آمدنی پر زندگی گزار رہے ہیں۔
اگرچہ اپریل میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 6.8 فیصد ہوگئی اور زیمبیائی کرنسی کواچا کی قدر میں بھی بہتری آئی ہے، تاہم بہت سے شہری اب بھی خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 10 فیصد ہے۔
افریقہ کی نسبتاً مستحکم جمہوریتوں میں شمار ہونے والے زیمبیا کو اس حوالے سے بھی جانچ پڑتال کا سامنا ہے کہ ہچلیما حکومت نے معاشی بحالی کے مضبوط وعدوں کے باوجود اختلافِ رائے کے لیے دستیاب گنجائش محدود کردی ہے۔
64 سالہ کاروباری شخصیت ہچلیما نے 2021 کا صدارتی انتخاب اپنی چھٹی کوشش میں جیتا تھا۔ اب وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے ایک بڑے منصوبے کے ذریعے اپنی آخری پانچ سالہ مدت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کے اہم ترین حریف برائن منڈوبائل ہیں، جو 2011 سے 2021 تک حکومت کرنے والی پیٹریاٹک فرنٹ (PF) حکومت میں سابق وزیر رہ چکے ہیں۔
55 سالہ منڈوبائل کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی حمایت حاصل ہے اور وہ نئی قائم ہونے والی NRPUP جماعت کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑ رہے ہیں، جس کی سیاسی بنیاد بڑی حد تک سابق حکمراں جماعت سے وابستہ ہے۔
وہ مئی میں انتخابی دوڑ میں شامل ہوئے، جس سے ایسے مقابلے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی جو طویل عرصے سے ہچلیما کے حق میں نظر آرہا تھا۔
منڈوبائل نے بدھ کو خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی جماعت کی انتخابی مہم پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں اور وہ انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کامیابی کے بعد ملک میں "قومی سطح پر نئی شروعات” اور مفاہمت کا عمل شروع ہوگا۔ ان کے مطابق زیمبیا شدید تقسیم کا شکار ہے۔انہوں نے کہا، "تقسیم شدہ ملک میں ترقی کے لیے آپ بہت کم کام کرسکتے ہیں۔”
زیمبیا کے عوام جمعرات کو پارلیمان کی 226 نشستوں کے لیے بھی امیدواروں کا انتخاب کریں گے، جبکہ گزشتہ انتخابات میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد 156 تھی۔
زیمبیا میں ووٹنگ روایتی طور پر علاقائی بنیادوں پر ہوتی رہی ہے۔ ہچلیما کی جماعت کو ملک کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے، جبکہ پیٹریاٹک فرنٹ کو شمالی علاقوں اور کاپر بیلٹ میں اب بھی کچھ حمایت حاصل ہے۔
صدارتی انتخابات کے نتائج 17 اگست تک متوقع ہیں۔ کامیابی کے لیے کسی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوں گے، بصورت دیگر دوسرے مرحلے میں انتخابات کرائے جائیں گے۔









