غزہ، 13 اگست (یو این آئی) قانونی مشکلات کے باعث غزہ کی خواتین طویل عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دے کر جلد طلاق لینے پر مجبور ہیں۔
غزہ سٹی کے سہیر البردونی اپنے چار بچوں کی دیکھ بھال کی کوشش میں وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ میں بے گھر ہو کر رہ رہی تھیں، جبکہ ان کے اردگرد جنگ جاری تھی۔
وہ تو زندہ بچ گئیں، لیکن ان کی 10 سالہ ازدواجی زندگی نہ بچ سکی۔ 30 سالہ البردونی نے بتایا کہ 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد ان کے اور ان کے سابق شوہر کے درمیان جھگڑے شدت اختیار کر گئے تھے، کیونکہ غزہ میں محض زندگی گزارنے کا دباؤ بھی ان کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہا تھا۔لیکن البردونی کو ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل کی غزہ پر جنگ نے فلسطینی علاقے کے انتظامی ڈھانچے کے کئی حصوں کو تباہ کر دیا ہے، جن میں عدالتی نظام بھی شامل ہے۔
عدالت سے باقاعدہ طلاق حاصل کرنے اور اس کے ساتھ ملنے والے مالی حقوق کا دعویٰ کرنے کے لیے، جن کی وہ حقدار تھیں، البردونی کو شرعی عدالت سے رجوع کرکے اپنا مقدمہ ثابت کرنا پڑتا۔ ان کے مطابق انہوں نے فروری 2025 میں قانونی کارروائی شروع کی تھی، لیکن جنگ کے باعث عدالتی عمل میں تاخیر ہوئی اور مقدمہ طویل ہوتا چلا گیا۔
چنانچہ البردونی نے اپنے لیے دستیاب نسبتاً تیز راستہ اختیار کیا — خلع، یعنی بیوی کی جانب سے طلاق کا مطالبہ، جس میں بعض صورتوں میں عورت کو اپنے مالی حقوق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ ان کے معاملے میں اس کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے اپنا مہر سابق شوہر کو واپس کردیا اور اس مالی معاونت سے بھی دستبردار ہوگئیں جس کی وہ قانونی طور پر حقدار ہوتیں۔
البردونی نے کہا، "میں نے سب کچھ چھوڑ دیا کیونکہ ان حالات میں اپنے حقوق حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ میں صرف سکون حاصل کرنا اور اس دور میں پیش آنے والے تمام تجربات سے دور ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھی۔”
البردونی کی کہانی غزہ کی بہت سی خواتین کے تجربے کی عکاسی کرتی ہے، جو تاخیر کا شکار قانونی مقدمات اور جنگ کے باعث عدالتی نظام تک محدود رسائی کے درمیان پھنس گئی ہیں۔ اس صورت حال نے ایسے فیصلوں کو بھی معطل کردیا ہے جو ان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں، جب تک حالات عدالتوں کو مکمل طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
کچھ عائلی معاملات، جن میں طلاق کے مقدمات بھی شامل ہیں، غزہ کی شرعی عدالتوں تک پہنچے ہیں، جہاں ایسے معاملات کی سماعت کی جاتی ہے۔
غزہ میں سپریم کونسل برائے شرعی عدلیہ کے سربراہ شیخ حسن الجوجو کے مطابق، عدالتوں نے اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے سے مئی کے اختتام تک 8,700 سے زائد طلاق کے مقدمات نمٹائے ہیں۔یہ اس کے باوجود ہے کہ عدالتوں کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جن میں عدالتی عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان اور ججوں و دیگر عملے کی کمی شامل ہے۔
الجوجو نے بتایا کہ عدالتیں تقریباً مکمل عدالتی سرگرمیوں کی جانب واپس آچکی ہیں، جبکہ عدالتوں کی عمارتیں بند رہنے کے ادوار میں بھی خدمات جاری رہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتیں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر عدالت کے پاس صرف ایک کمپیوٹر ہے، جبکہ بجلی کی بار بار بندش، طباعتی مواد کی کمی اور بنیادی دفتری سامان کی قلت اب بھی ان کے کام کو متاثر کر رہی ہے۔
الجوجو نے کہا، "شہریوں کے لیے ضروری خدمات، جن میں شادی، طلاق اور دیگر قانونی کارروائیاں شامل ہیں، بند نہیں ہوئیں۔ لیکن اس مرحلے پر ترجیح خدمات کی فراہمی جاری رکھنا ہے، نہ کہ اس نظام کو بہتر بنانا۔”تاہم صرف طلاق کے اعداد و شمار جنگ کے خاندانوں پر پڑنے والے مکمل اثرات کی عکاسی نہیں کرتے۔ عدالتی نظام تک رسائی میں تاخیر کے باعث البردونی جیسی خواتین علیحدگی کے بعد اپنے قانونی حقوق حاصل نہیں کر پائیں، خصوصاً بچوں کی تحویل، شوہر اور بچوں کے نان و نفقے اور دیگر مالی ادائیگیوں کے معاملات میں، جو عموماً بیوی کو ملنے والی ہوتی ہیں۔
غزہ کے وکیل محمد الطلاع کے مطابق جنگ نے عدالتی اداروں کے کام کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں سماعتیں ملتوی اور متعدد مقدمات معطل ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی بمباری اور دفاتر کی تباہی کے باعث ہزاروں فائلیں اور دستاویزات ضائع ہوگئی ہیں، جس سے بالخصوص شہری اور جائیداد سے متعلق معاملات میں حقوق ثابت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
الطلاق کے مطابق عائلی معاملات میں عدالتوں کے نفاذی شعبوں کی معطلی نے ان خواتین کو بھی مالی ادائیگیوں سے محروم کردیا ہے جو ان کی حقدار تھیں۔ اس کے علاوہ بچوں سے ملاقات اور تحویل کے مقدمات بھی متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث بعض والدین اپنے بچوں سے رابطے سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کراسکے۔
مسائل صرف قانونی نوعیت کے نہیں ہیں۔ الطلاع نے بتایا کہ طلاق اور علیحدگی کے مقدمات میں مسلسل تاخیر نے بعض خواتین کو ایسی شادیوں میں پھنسے رہنے پر مجبور کردیا ہے جن سے وہ نکلنا چاہتی ہیں۔ اس نے انہیں اپنی زندگی آگے بڑھانے سے بھی روک دیا ہے، جبکہ واجب الادا مالی ادائیگیوں میں تاخیر نے خاندانوں پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ بچوں سے متعلق مقدمات کے فیصلے نہ ہونے کے باعث تمام متعلقہ افراد پر نفسیاتی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، جو جنگ کے باعث پہلے ہی شدید صدمے سے گزر رہے ہیں۔
سعاد النعمی بھی اس غیر یقینی صورت حال میں پھنسے رہنے کے لیے تیار نہیں تھیں، چنانچہ انہوں نے خلع کے ذریعے طلاق لینے کا فیصلہ کیا، چاہے اس کے لیے انہیں ان حقوق سے دستبردار ہی کیوں نہ ہونا پڑے جو عدالت سے ملنے والی طلاق کی صورت میں انہیں حاصل ہوسکتے تھے۔
22 سالہ النعمی کی شادی کو صرف پانچ ماہ ہوئے تھے، لیکن سابق شوہر کے ساتھ اختلافات بڑھنے کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ النعمی نے کہا، "میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میری ازدواجی زندگی اس طرح شروع ہوگی۔ مجھے امید تھی کہ ہمارا اپنا گھر اور ایک مستحکم زندگی ہوگی، لیکن بے گھر ہونا اور خیمے میں رہنا ہر چیز کو مزید مشکل بنا گیا۔”
غزہ میں اپنے اردگرد پھیلی تباہی کے درمیان اس نوجوان خاتون کے لیے ایک نئی شروعات کا امکان ایک طویل عدالتی مقدمے کے مقابلے میں زیادہ اہم تھا۔
النعمی نے کہا، "اپنے حقوق سے دستبردار ہونا آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ ایک طویل قانونی کارروائی میں داخل ہونا اور برسوں انتظار کرنا میری تکلیف میں صرف اضافہ کرے گا۔ میں صرف اختلافات ختم کرکے دوبارہ زندگی شروع کرنا چاہتی تھی، کیونکہ ان حالات میں مسائل سے بھرا رشتہ برقرار رکھنا خود علیحدگی کے فیصلے سے بھی زیادہ مشکل ہوتا۔”








