لندن، 12 اگست (یو این آئی) برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم بدھ کو حکومت کے ہنگامی کوبرا اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں ملک بھر میں شدید گرمی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور بگڑتی ہوئی خشک سالی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
مقامی میڈیا کے مطابق برنہم وزرا، اعلیٰ حکام اور ہنگامی خدمات کے اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ ملک میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، بدھ کو زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جمعرات کو 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نمبر 10 کے ترجمان نے کہا کہ حکومت شدید موسمی حالات سے پیدا ہونے والے چیلنجز، خصوصاً فائر فائٹرز، کسانوں اور نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے عملے کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے۔
بدھ کا اجلاس رواں سال گرمی کی لہر سے متعلق دوسرا کوبرا اجلاس ہوگا۔ اس سے قبل جون میں بھی اسی نوعیت کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب برطانیہ کے بعض علاقوں میں رواں موسم گرما کی پانچویں گرمی کی لہر جاری ہے اور 30 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت والے دنوں کی تعداد سالانہ ریکارڈ کی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات میٹ آفس کے مطابق رواں سال اب تک ملک میں 35 دن ایسے گزر چکے ہیں جب درجہ حرارت 30 ڈگری یا اس سے زیادہ رہا، جو 1995 میں قائم کیے گئے 34 دن کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کے لیے شدید گرمی کی ایک نایاب امبر وارننگ بھی جاری کی ہے۔
گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم سائنس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے۔‘‘
پولانسکی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ فوسل فیول کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرکے فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹروں کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے ہر کمیونٹی میں ٹھنڈی جگہ کے قیام، کام کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت مقرر کرنے اور بحیرۂ شمالی میں تیل و گیس کی نئی تلاش و پیداوار روکنے سمیت دیگر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
ہنگامی اجلاس تازہ ترین گرمی کی لہر کے دوران ہورہا ہے جس کے باعث انگلینڈ کے مزید علاقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ ادھر ہیمپشائر کے نیو فاریسٹ میں فائر فائٹرز ایک بڑی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میٹ آفس نے منگل کو کہا کہ اوسط درجہ حرارت کی بنیاد پر برطانیہ اب تک کی گرم ترین موسم گرما ریکارڈ کرنے کی راہ پر ہے۔
ویلز نے مسلسل بلند درجہ حرارت اور بگڑتے حالات کے باعث 30 جولائی کو خشک سالی کا اعلان کیا تھا۔ انگلینڈ کے بڑے حصے میں بھی ریکارڈ کم بارش اور طویل گرمی کے بعد پہلے ہی خشک سالی کا اعلان کیا جاچکا ہے۔
شدید گرمی کے انسانی اثرات بھی نمایاں رہے ہیں۔ یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق مئی اور جون میں آنے والی گرمی کی لہروں کے دوران برطانیہ میں 2,877 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جو موسم گرما 2025 میں ریکارڈ کی گئی 1,504 اضافی اموات کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔










