قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اراکینِ پارلیمنٹ نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مارچ نکالا اور اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ طلباء کے مظاہرے کے مسئلے پر ایوان میں بحث سے بچنے کے لیے کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ا
این ڈی اے اراکینِ پارلیمنٹ نے مکر دوار تک مارچ نکالا اور الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین جان بوجھ کر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور طلباء کے مسئلے پر بحث سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن وزیر داخلہ امت شاہ سے اس مسئلے پر جواب دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب مسٹر شاہ بحث میں شامل ہونے اور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تب بھی اپوزیشن اراکین ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کر کے ایوان کی کارروائی کو متاثر کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سکریٹری نیز راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ ترون چگ نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر طلباء کے مسائل پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے جھارکھنڈ میں طالب علموں کے خلاف پولیس کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔
بی جے پی رہنما انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ جھارکھنڈ میں مظاہرہ کر رہے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ان کے خلاف زیادتیاں کی گئیں۔ اس سے مسٹر گاندھی کی سوچ ظاہر ہوتی ہے۔ کانگریس کی حمایت سے چل رہی حکومت جھارکھنڈ میں نوجوانوں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہے، یہ طلباء کے خلاف کی گئی کارروائی سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی ایوان میں تو آتے نہیں لیکن وزیر داخلہ سے طلباء کے معاملے میں جواب مانگتے ہیں۔ مسٹر شاہ جب جواب دینے کے لیے تیار ہیں تب بھی ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔
بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ بانسری سوراج نے مسٹر گاندھی پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے، بحث کا رخ موڑنے اور دوہرا سیاسی رویہ اپنانے کا الزام لگایا۔ اپنا دل (سونے لال) کی صدر نیز مرکزی وزیرِ مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود انوپریا پٹیل نے کہا کہ اپوزیشن اراکین جان بوجھ کر پارلیمنٹ کا کام کاج متاثر کر رہے ہیں۔ محترمہ پٹیل نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے پہلے پیپر لیک کا مسئلہ اٹھایا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، جسے حکومت نے قبول کر لیا۔ اس کے باوجود، اپوزیشن جماعتیں بحث کے لیے تیار نہیں ہیں، جو درست نہیں ہے









