صنعا، 11 اگست (یو این آئی) یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب کے رہائشی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔
یمنی فوج کے مطابق پیر کو کیے گئے ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے ایک روز قبل المخا اور اس کی بندرگاہ پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ہوئے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ حملوں سے بندرگاہی علاقے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی وسطی صوبے شبوا میں حوثیوں کے ڈرون حملے میں یمنی حکومت کے دو فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔
یمنی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی الجوف، شمال مغربی صعدہ اور وسطی مارب کے علاقوں میں حوثیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمن میں فریقین کے درمیان حالیہ جھڑپوں کو کئی برسوں میں ہونے والی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سے بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی سے 2022 کی جنگ بندی سے حاصل ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یمن ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے، جس کے ملک کے عوام کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔







