اقوام متحدہ،8 اگست (یو این آئی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سوڈان میں اسکول جانے کی عمر کے 80 لاکھ سے زائد بچے تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد نے جمعے کو سوڈان میں تعلیم کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ انتباہ جاری کیا۔ اس وقت سوڈان میں جاری جنگ کو شروع ہوئے 1,210 دن گزر چکے ہیں۔
امینہ محمد نے کہا، ’’اس جنگ نے سوڈان سے جو کچھ چھینا ہے، ان میں سب سے اہم چیز سوڈان کا مستقبل ہے، کیونکہ اس نے اس کے بچوں کو تعلیم سے محروم کردیا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع ایک ’’پوری نسل‘‘ کو اس کے مستقبل سے محروم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اپریل 2023 میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سوڈان کے دارفور خطے میں تقریباً تین چوتھائی اسکول یا تو نقصان زدہ ہو چکے ہیں، تباہ ہو گئے ہیں یا کسی اور وجہ سے قابلِ استعمال نہیں رہے۔
امینہ محمد نے کہا، ’’ہر چھ میں سے پانچ بچے اسکول سے باہر ہیں، اور والدین آپ کو بتائیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو کلاس روم بھیجنے کے بجائے گھر میں رکھنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے گھر ہی وہ واحد جگہ رہ گئی ہے جہاں وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ 2024 سے اقوام متحدہ نے اسکولوں پر 67 سے زائد حملے ریکارڈ کیے ہیں، جبکہ 154 سے زیادہ مرتبہ اسکولوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات بھی دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر اصل نقصانات اور واقعات کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
امینہ محمد نے کہا کہ سوڈان کے نصف سے زیادہ اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، تاہم بہت سے اساتذہ ’’تمام تر مشکلات کے باوجود‘‘ تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نائب سیکریٹری جنرل نے کہا، ’’سوڈان اپنی سابقہ جنگوں میں پہلے ہی ایک نسل کھو چکا ہے اور اب ایک اور نسل بھی کھو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع کا بوجھ غیر متناسب طور پر خواتین اور بچوں پر پڑ رہا ہے، جن کا اس جنگ میں کوئی کردار یا فیصلہ نہیں تھا، لیکن وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے رواں سال 10 لاکھ سے زائد سوڈانی بچوں کو کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ تعلیم سے جوڑنے میں مدد کی ہے، تاہم یہ تعداد اب بھی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
سوڈانی فوج اور نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے جنگ کے بچوں پر اثرات کے حوالے سے متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے۔
یونیسیف کے مطابق اب تک ملک بھر میں تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی شدید ضرورت ہے۔ ان میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے رواں سال کے آغاز میں سوڈان کے دورے کے دوران اجتماعی قتل اور اجتماعی زیادتی کے واقعات سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس تنازع کو ’’محض ایک اور جنگ نہیں‘‘ بلکہ ’’آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والا انسانی حقوق کا تباہ کن سانحہ‘‘ قرار دیا تھا۔








