کیف، 8 اگست (یو این آئی) روسی حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کےمضافاتی علاقے میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ایک یوکرینی عہدیدار کے مطابق ہفتے کے روز دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں اور شہر کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق روسی حملوں نے ہفتے کے روز کیف کے مضافات میں واقع بوریسپل ضلع کے تین مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں مزید تین افراد زخمی بھی ہوئے۔
یہ حملہ روس کی جانب سے جاری شدید بمباری کی تازہ کڑی ہے۔ یوکرین کے کمزور ہوتے فضائی دفاعی نظام کے لیے ان حملوں کو روکنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے روس کی یوکرینی شہروں پر حملہ کرنے کی صلاحیت اور کیف کی ان حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق نمایاں ہو رہا ہے۔
ہفتے کی صبح فضائی حملے کا الرٹ جاری ہونے کے بعد دارالحکومت کے دو اضلاع میں آگ بھڑک اٹھی۔ وسطی کیف کے رہائشیوں نے بتایا کہ شدید دھماکوں سے قریبی عمارتیں لرز اٹھیں۔
روسی بیلسٹک میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں اور انتہائی تیزی سے اپنے اہداف کی جانب جھپٹتے ہیں، جس کے باعث یوکرینی دفاعی نظام کو اکثر ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈ ملتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام یوکرین کے پاس موجود واحد ایسا ہتھیار ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو نسبتاً قابلِ اعتماد طریقے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیف کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے شہروں کو مؤثر طور پر محفوظ رکھنے کے لیے نہ تو کافی بیٹریاں ہیں اور نہ ہی مطلوبہ تعداد میں انٹرسیپٹر میزائل موجود ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں کی صرف ایک تہائی تعداد موصول ہوئی جو اسے 2025 کی اسی مدت کے دوران ملی تھی۔ ان کے مطابق اس کمی کی ایک وجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بھی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔
یوکرینی حکومت کے مشیروں کا اندازہ ہے کہ روس اب ہر ماہ تقریباً 100 بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما شروع ہونے کے بعد ماسکو اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لا سکتا ہے۔
حالیہ روسی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین بھی روسی سرزمین کے اندر دور تک موجود اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یوکرین نے روس کی دو آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ یوکرین نے روس کے شہر یکاترین برگ میں آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے ایک گودام پر بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے حملہ کیا۔
یوکرینی حکام کے مطابق وائلڈ بیریز کے مراکز کو نشانہ بنانا روسی فوج کی معاونت کرنے والے لاجسٹکس مراکز کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔
دریں اثنا، جمعے کے روز روس کے زیر قبضہ کریمیا کے گورنر نے بتایا کہ ایک یوکرینی ڈرون کے ایک رہائشی عمارت سے ٹکرانے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔








