نئی دہلی، 6 اگست (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو کچھ وقت کے لیے بلاک کرنے سے پیدا ہونے والے تنازع کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ‘میٹا’ کے حکام نے جمعرات کے روز دارالحکومت میں مرکزی الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں میٹا کے حکام نے ایک بار پھر بتایا کہ پی ایم مودی کی ویڈیو کا بلاک ہونا الگورژم کے سبب ہوا تھا اور ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ ماہ ایک ریل میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے امن قائم رکھنے کی جو اپیل کی تھی، اس ویڈیو کو فیس بک نے ہندوستان میں بلاک کر دیا تھا۔ کمپنی کو پانچ گھنٹے بعد اس غلطی کا احساس ہوا اور اس نے ویڈیو کو دوبارہ دستیاب کرایا۔ لیکن تب تک یہ معاملہ کافی طول پکڑ چکا تھا۔
اس کے بعد میٹا کے ہیڈ کوارٹر سے بھی کئی سینئر عہدیدار دہلی آئے ہوئے ہیں۔ حکومت نے انہیں وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔ بدھ کے روز انہوں نے اس غلطی کے لیے معافی بھی مانگی تھی۔
ذرائع کے مطابق آج کے اجلاس میں میٹا کے ہندوستان میں کام کرنے کے طریقۂ کار پر تفصیلی سوالات کیے گئے، جبکہ کمپنی کو واضح طور پر ہدایت دی گئی کہ وہ ملکی قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائے۔
قابل ذکر ہے کہ میٹا کے گلوبل پبلک پالیسی ہیڈ جوئیل کیپلان نے بدھ کے روز مسٹر ویشنو سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے عوامی بیان میں کہا کہ "وزیراعظم مودی کے پوسٹ کو غلطی سے بلاک کرنے کے لیے میں نے میٹا کی طرف سے وزیر (ویشنو) سے معافی مانگی ہے۔”




