نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے چوتھی جماعت کے ایک طالب علم کو استاد کے ذریعہ مبینہ زدوکوب اور ذات پات پر مبنی تبصروں کا ازخود نوٹس لیا ہے۔
این ایچ آر سی نے جمعرات کے روز بتایا کہ کمیشن نے میڈیا رپورٹس کا ازخود نوٹس لیا ہے، جن میں بتایا گیا ہے کہ 28 جولائی کو مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری کے گاؤں اوکاول میں ایک سرکاری پرائمری اسکول میں چوتھی جماعت کے ایک طالب علم کو ایک استاد نے زدوکوب کیا اور اسے ذات پات پر مبنی گالیاں دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دلت برادری کے لڑکے کو اپنی بوتل سے پانی پیتے دیکھ کر استاد غصے میں آ گیا تھا۔
کمیشن کے مطابق، اگر خبر میں دی گئی معلومات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ کمیشن نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور شیوپوری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ یکم اگست کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، لڑکے نے واقعے کی اطلاع اپنے والدین کو دی، جس کے بعد معاملے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔





