نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ اتر پردیش انتظامیہ آٹھ اگست کو پریاگ راج میں پارٹی رہنما راہل گاندھی کے ‘ چھاتروں کی گونج’ پروگرام کو روکنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے، لیکن پارٹی نے اس پروگرام سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں اور مسٹر گاندھی مقررہ شیڈول کے مطابق پریاگ راج پہنچیں گے۔
اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم، پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ کشوری لال شرما، عمران مسعود اور تنوج پنیا نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر گاندھی ملک بھر میں ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے ذریعے طالب علموں کے مسائل اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کوٹا اور دہرا دون میں بھی پروگراموں کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب پریاگ راج میں بھی انتظامیہ پروگرام کے مقام پر دباؤ بنا کر انعقاد منسوخ کرانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کانگریس پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پریاگ راج کے کے ڈی گراؤنڈ میں پروگرام کے لیے تمام ضروری اجازتیں حاصل کر لی گئی ہیں، مقررہ فیس جمع کرا دی گئی ہے اور تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس کے باوجود انتظامیہ پروگرام کے مقام کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام ہفتے کی شام پانچ بجے ہونا ہے اور اگلے دن اتوار ہے، اس لیے طلبہ کی پڑھائی متاثر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مسٹر گوتم نے الزام لگایا کہ اتر پردیش حکومت آئین اور قانون کی روح کے خلاف کام کر رہی ہے۔ کانگریس نے تمام قانونی رسمی کارروائیاں مکمل کی ہیں اور جمہوری طریقے سے پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اگر پروگرام میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے تب بھی مسٹر گاندھی ہر حال میں پریاگ راج جائیں گے اور طالب علموں کے درمیان اپنی بات رکھیں گے۔
مسٹر شرما نے کہا کہ تمام ضروری اجازتیں ملنے کے بعد بھی پروگرام پر اعتراض جتانا جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہے۔ مسٹر مسعود نے الزام لگایا کہ ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کو مل رہی حمایت سے حکومت گھبرائی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسٹر پنیا نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن کانگریس طالب علموں اور نوجوانوں کے مسائل مضبوطی سے اٹھاتی رہے گی اور ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔





