نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) حکومت ملک میں کمپریسڈ بائیو گیس کو فروغ دینے اور اسے مستقبل کے توانائی کے ذرائع کا اہم ستون بنانے کے لیے 23 ہزار 731 کروڑ روپے کے کل اخراجات کے ساتھ دس سال کے لیے گوبر دھن اسکیم شروع کرنے جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی گئی۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کے روز یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ کابینہ نے 23,731 کروڑ روپے کی قومی ری سائیکلنگ بائیو انرجی، گوبر دھن اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکیم زرعی باقیات، مویشیوں کے گوبر، شوگر ملوں کے فضلے، بلدیاتی اداروں کے نامیاتی کچرے اور دیگر بائیو ماس وسائل کو صاف ستھرے ایندھن، نامیاتی کھاد اور دیہی آمدنی میں تبدیل کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
یہ اسکیم موجودہ مالی سال سے مالی سال 36-2035 تک نافذ کی جائے گی اور اس کا مقصد کمپریسڈ بائیو گیس کو ہندستان کے مستقبل کے توانائی کے آمیزے کا ایک اہم ستون بنانا ہے۔ اس کا ہدف گھریلو کمپریسڈ بائیو گیس کی پیداوار میں تقریباً دس گنا اضافہ، بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری اور ملک بھر میں ری سائیکلنگ بائیو اکانومی کا قیام ہے۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے تحت گوبر دھن اسکیم، یقینی مانگ ، مستحکم قیمتوں، مالی امداد، پائپ لائن انفراسٹرکچر، قرض کی سہولت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے کمپریسڈ بائیو گیس کی ویلیو چین کے لیے مربوط ڈھانچہ فراہم کرے گی۔
یہ اسکیم پائیدار متبادل ٹرانسپورٹ کےلیئے کفایتی پہل ، نامیاتی کھاد کے لیے مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس اسکیم، بائیو ماس مشینری اسکیم، پائپ لائن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اسکیم اور قومی بائیو انرجی پروگرام کے تحت کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹس کے لیے مرکزی مالیاتی امداد جیسے سابقہ اقدامات پر مبنی ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے 200 سے زائد کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹس کا آغاز کیا گیا ہے، پیداوار اور خریداری کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے اور نامیاتی کھاد کی ویلیو چین کو فروغ دیا گیا ہے۔
گوبر دھن کے تحت چھ گروتھ انجنز اس شعبے کی توسیع کو رفتار دیں گے۔ یہ اسکیم ایک کمپریسڈ بائیو گیس کی خریداری کی ضمانت کا ڈھانچہ قائم کرے گی، جس میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن اداروں کے ذریعہ خریداری سے سی این جی (ٹرانسپورٹ) اور پی این جی (گھریلو) شعبوں میں نوٹیفائیڈ کمپریسڈ بائیو گیس کی بلینڈنگ (آمیزش) کی ذمہ داری کے ہدف کو مالی سال 27-2026 میں 3 فیصد، مالی سال 28-2027 میں 4 فیصد اور مالی سال 29-2028 سے آگے 5 فیصد تک پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے لیے اہل گرین فیلڈ پروجیکٹس کو قائم شدہ صلاحیت کے مطابق یومیہ فی ٹن پر 2 کروڑ روپے تک کی مالی امداد دی جائے گی۔ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے والے براؤن فیلڈ پروجیکٹس بھی اس کے لیے اہل ہوں گے۔
یہ اسکیم پلانٹس کو ٹرنک پائپ لائنز اور سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک سے جوڑنے والے پائپ لائن انفراسٹرکچر کو بھی امداد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، ایم ایس ایم ای پر مبنی پروجیکٹس کے لیے ایک مخصوص کریڈٹ گارنٹی کا نظام دستیاب کرایا جائے گا۔ حکومت ایک ایکو سسٹم چیلنج فنڈ بھی قائم کرے گی جو فیڈ اسٹاک وسائل کے تخمینے، جمع کرنے کے انفراسٹرکچر، ضلعی سطح کے پلانٹس، ترقیاتی منصوبے، ٹیکنالوجی کو اپنانے، نامیاتی کھاد کی قدر میں اضافے، صلاحیت سازی اور متعلقہ فریقین کی بیداری کے لیے امداد دے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ، گھریلو استعمال، صنعت اور تجارتی شعبوں میں قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ کو گھریلو قابلِ تجدید پیداوار کے ذریعے کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹ سے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے در آمد شدہ رکازی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔ یہ اسکیم کسانوں، فیڈ اسٹاک جمع کرنے والوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور دیہی تاجروں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کر کے دیہی روزگار کو مضبوط بنانے، سائنسی فضلے کے انتظام کو فروغ دینے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور نامیاتی کھاد کی معیشت کی توسیع میں مدد کرے گی۔




