نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے جمعرات کے روز یہاں تاج ہوٹل کے باہر مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان کا مقصد میٹا کی گلوبل ٹیم کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہندوستان کے طالب علموں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
یوتھ کانگریس کے ترجمان ورون پانڈے نے یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کے کارکنوں نے مظاہرے کے ذریعے میٹا کی گلوبل ٹیم کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ طالب علموں کی تحریکوں سے جڑے ویڈیو اور حکومت سے سوال پوچھنے والی آوازوں کو ہٹانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ طالب علموں کے احتجاجی مظاہروں کے ویڈیو اور حکومت سے سوال پوچھنے والے مواد کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ نفرت اور پروپیگنڈے سے جڑے مواد کو نہیں ہٹایا جا رہا۔
تنظیم نے کہا کہ مودی حکومت کے کہنے پر ہندستنانی شہریوں کی آواز کو سنسر کرنا بند کیا جانا چاہیے۔ اس کا الزام ہے کہ کامیڈی، طنز، سیاسی نعروں اور حکومت پر تنقید کرنے والی پوسٹس تیزی سے ہٹائی جا رہی ہیں۔ یوتھ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ صرف کچھ پوسٹس ہٹانے کا معاملہ نہیں، بلکہ ہندستانیوں کے بولنے، تنقید کرنے، اختلافِ رائے ظاہر کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کا سوال ہے۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ میٹا کو سیاسی سنسرشپ کا وسیلہ نہیں بننا چاہیے۔ تنظیم نے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ نہ کرنے، لوگوں کی آواز نہ دبانے اور شہریوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرے میں یوتھ کانگریس کے قومی سکریٹری پمی سنگھ، قومی جوائنٹ سکریٹری کرن چورسیا اور تنظیم کے دیگر کارکنان موجود تھے۔




