ایجنسیز
بانڈی پورہ؍۱۷جون
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز دوٹوک انداز میں کہا کہ نیشنل کانفرنس کبھی بھی اقتدار کے حصول کے لیے اپنے اصولوں اور اقدار کا سودا نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نظریہ اور عوام کے ساتھ اس کا عہد کسی بھی سیاسی مصلحت یا بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے بعض ارکانِ پارلیمان کی جانب سے بعض معاملات میں این ڈی اے کی حمایت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیشکش یا سیاسی بندوبست نیشنل کانفرنس کو اپنے بنیادی اصول ترک کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہمیں چاہے جو کچھ بھی پیش کیا جائے یا کوئی بھی این ڈی اے کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرے، نیشنل کانفرنس اپنے اصولوں اور اقدار کا سودا نہیں کرے گی۔‘‘
عمرعبداللہ نے یہ بات اس موقع پر کہی جب انہوں نے مختلف شعبوں سے متعلق تقریباً۳۰۰کروڑ روپے مالیت کے کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور ان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے اور ترقیاتی فوائد کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس دوران انہوں نے مختلف عوامی وفود سے بھی ملاقات کی جنہوں نے سڑکوں، پینے کے پانی کی فراہمی، بجلی، صحت کی سہولیات، روزگار اور دیگر شہری مسائل سے متعلق مطالبات اور شکایات پیش کیں۔ عمر عبداللہ نے وفود کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ جائز مطالبات کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر ان کے ازالے کو یقینی بنائیں۔
ترقیاتی عمل کے تئیں اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زیر تکمیل منصوبے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مختلف اضلاع میں عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کے سیاسی فیصلے اس کے نظریے اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ وابستگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے، نہ کہ وقتی سیاسی مفادات یا مصلحتوں کے تحت۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہمارے اپنے اصول اور ایک منفرد سیاسی ورثہ ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے قطع نظر ہم ہمیشہ انہی اصولوں پر قائم رہیں گے۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس اقتدار یا سیاسی فائدے کے لیے کبھی بھی اپنے نظریات اور اقدار پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
(ایجنسیاں)










