ایجنسیز
سرینگر؍۱۷جون
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے بدھ کے روز دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج کو ’’محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبداللہ حکومت اپنی ’’صفر کارکردگی اور ناقص طرزِ حکمرانی‘‘ سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج کے بارے میں پوچھے جانے پر شرما نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز جنتر منتر پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ مرکز کو جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدے کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔
شرما نے کہا، ’’لوگ بجلی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن میں نے کوئی جائزہ اجلاس ہوتے نہیں دیکھا۔ صاف پینے کے پانی کی کمی ہے لیکن یہ حکومت عوام کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے کہا، ’’بدعنوانی عروج پر ہے اور اس کے بغیر کوئی کام کرانا ناممکن ہو گیا ہے۔ ان چھ وزراء نے جو صورتحال پیدا کی ہے وہ صرف بدعنوانی کی ہے، حکمرانی کہیں نظر نہیں آتی۔ زمینی سطح پر نہ حکمرانی ہے اور نہ ہی کارکردگی۔‘‘
شرمانے کہا کہ دیگر ریاستوں کے برعکس، جہاں وزرائے اعلیٰ عوام سے ملتے ہیں اور عوامی رابطہ پروگرام چلاتے ہیں، یہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ صرف اپنی جماعت کے ارکانِ اسمبلی سے ملاقات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’انہیں عوام سے ملنا چاہیے، جائزہ اجلاس منعقد کرنے چاہئیں، افسران سے بات کرنی چاہیے، معلومات حاصل کرنی چاہیے اور زمینی سطح پر لوگوں کے مسائل سننے چاہئیں۔ اپنی ناقص کارکردگی اور ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہوں نے جنتر منتر پروگرام کا سہارا لیا ہے، جس پر مجھے شدید اعتراض ہے۔‘‘
اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی حکومت کے۱۲ سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کو تبدیل کر دیا ہے اور اسے تشدد اور بدامنی سے نجات دلائی ہے۔
شرما نے کہا’’۲۰۱۴ سے پہلے پتھراؤ کے واقعات ہوتے تھے اور خوف کا ماحول تھا۔ آج اسکول اور کاروبار بلا خوف و خطر معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ سال کے۳۶۵ دنوں میں۱۵۰ سے۲۰۰دن ہڑتالیں ہوا کرتی تھیں، لیکن آج ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔‘‘
علیحدگی پسندوں کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی رہنما نے کہا کہ بعض لوگوں نے علیحدگی پسندی کے نام پر زبردستی اپنا اثر و رسوخ قائم کر رکھا تھا، ہڑتالوں کی کال دیتے تھے اور نوجوانوں کو پتھراؤ اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اکساتے تھے۔انہوں نے کہا، ’’تاہم مودی نے انہیں قابو میں کیا اور کشمیر کو امن و قانون کی صورتحال کے لحاظ سے ملک کے دیگر حصوں کے برابر لا کھڑا کیا۔‘‘
شرما نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ۱۲ برسوں کے دوران مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی صورتحال اور ماحول میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے اور اب عوام میں خوف کا ماحول باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا، ’’قانون و نظم کا مسئلہ انہی لوگوں کے دورِ حکومت میں تھا جو آج صرف ریاستی درجے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس وقت خونریزی اور تشدد عام تھا۔ گولیاں اور گرینیڈ ہر طرف سے چلتے تھے۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانا ناممکن ہے، لیکن آج صورتحال سب کے سامنے ہے۔ نوجوان خوشی سے گھوم پھر رہے ہیں اور عوام کے دلوں سے خوف ختم ہو چکا ہے۔‘‘
شرما نے مزید کہا کہ کشمیر میں تبدیلی کی جو ہوا چلی ہے وہ مودی حکومت کے۱۲ سالہ دورِ اقتدار کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً۹۰فیصد تبدیلی آ چکی ہے جبکہ کچھ کام ابھی باقی ہے۔(ایجنسیاں)










