یاترا کامیاب رہے گی‘اس سال سالانہ امرناتھ یاترا۵۷ دنوں کی طویل مدت کے لیے منعقد کی جا رہی ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ
’انتظامیہ نے سکیورٹی سمیت تمام پہلوؤں کا مکمل خیال رکھا ہے‘ /مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل برقرار رکھنے پر زور
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶جون
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ اس سال امرناتھ یاترا کامیاب رہے گی اور یاترا کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا چکے ہیں۔
یاترا جولائی کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگی۔
وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس سال سالانہ امرناتھ یاترا طویل مدت کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’اس بار یاترا کا دورانیہ زیادہ ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی سمیت تمام پہلوؤں کا مکمل خیال رکھا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یاترا انتہائی کامیاب رہے گی‘‘۔
جنوبی کشمیر میں واقع مقدس امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا۳؍ جولائی سے شروع ہوگی اور۵۷ دن بعد۲۸؍اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
اس سے قبل، سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں محکمہ پنشن و پنشنرز ویلفیئر کی جانب سے منعقدہ۵۹ ویں پری ریٹائرمنٹ کونسلنگ ورکشاپ اور۱۳ ویں بینکرز آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ۱۲ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ کی گئی گورننس اور پنشن اصلاحات سے جموں و کشمیر کے ملازمین اور پنشنرز کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے، خاص طور پر ریاست کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد۔
مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد خطے میں مرکزی حکومت کے ملازمین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث ابتدائی طور پر کام کے بوجھ اور خدمات کی فراہمی سے متعلق بعض مشکلات سامنے آئیں، تاہم حکومت اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ان مسائل کو بتدریج حل کر لیا گیا۔
جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر سینٹرل پنشنرز ایسوسی ایشنز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں نے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے عملی حل بھی تجویز کیے۔ ان کی تعمیری شراکت داری نے سابق ریاستی ملازمین کو مرکزی حکومت کے نظام میں شامل کرنے اور پنشن اصلاحات کے مؤثر نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے ملازمین اور پنشنرز وزیر اعظم مودی کی قیادت میں شروع کی گئی عوام دوست اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو گزشتہ ایک دہائی میں پنشن نظام میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس دوران جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) بھیم سین توتی نے ۳ جولائی سے شروع ہونے والی شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر چوکسی بڑھانے اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل برقرار رکھنے پر زور دیا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق آئی جی پی توتی نے آئندہ شری امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور تال میل سے متعلق انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے جموں پولیس ہیڈکوارٹر میں ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں یاترا کو محفوظ اور پُرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے تعیناتی کے منصوبوں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، نگرانی، ایکسس کنٹرول کے اقدامات، قافلوں کی سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جموں کے آئی جی پی نے چوکسی بڑھانے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور سکیورٹی اقدامات کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تیرتھ یاتریوں کے لیے مناسب سہولیات اور آسانیوں کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔
توتی نے آنے والی سی پی ایم ایف کمپنیوں کو مؤثر بریفنگ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور تمام افسران کو ہدایت دی کہ یاترا کے دوران ہر وقت مکمل طور پر تیار اور آپریشنل طور پر مستعد رہیں۔
اجلاس کے دوران تیاریوں کا ضلع وار جائزہ لیا گیا، جس میں جموں سمیت متعلقہ اضلاع کے ایس ایس پیز نے اپنے اپنے علاقوں میں کیے گئے انتظامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
ریسیپشن سینٹر، بھگوتی نگر، بیس کیمپ، قیام گاہوں اور یاترا کے راستوں پر سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔










