ایجنسیز
سرینگر؍۱۶ جون
جموں و کشمیر پولیس نے منشیات کے خلاف جاری ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت پلوامہ اور سری نگر اضلاع میں تین مبینہ منشیات فروشوں کی تقریباً۴ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی دفعات کے تحت انجام دی گئی۔
اونتی پورہ میں پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۶۸ -ایف کے تحت بدنام زمانہ منشیات فروش نثار احمد کھانڈے کی دو منزلہ رہائشی عمارت اور۷کنال۱۸ مرلہ اراضی، جس کی مالیت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے بتائی جاتی ہے، ضبط کر لی۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ جائیداد غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ قرار دی گئی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ مذکورہ جائیداد منشیات اور نشہ آور اشیا کی غیر قانونی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ نثار احمد کھانڈے منشیات سے متعلق متعدد مقدمات میں ملوث ہے اور ضبط شدہ جائیداد اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کا براہ راست نتیجہ پائی گئی۔
ادھر سری نگر میں پولیس نے دو دیگر مبینہ منشیات فروشوں کی ایک کروڑ۵۰ لاکھ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی ہیں۔بٹہ مالو پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت نندریش کالونی سری نگر میں واقع سکندر فردوس کے تین منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کیا، جس کی مالیت تقریباً۸۰لاکھ روپے ہے۔
سکندر فردوس کے خلاف بٹہ مالو پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ایک اور کارروائی میں کرال کھڈ پولیس نے غلام حسن بٹ کے نام پر موجود بیجبہاڑہ، ضلع اننت ناگ میں واقع ایک منزلہ رہائشی مکان ضبط کیا، جس کی مالیت تقریباً۷۰ لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق ضبطی کی کارروائی کی رپورٹ مزید قانونی کارروائی کے لیے سیفما نئی دہلی کو ارسال کر دی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ضبط شدہ تمام جائیدادیں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی تھیں اور منشیات کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
اس بیچ جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے پاک بنانے کے لیے جاری ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت اننت ناگ پولیس نے سات افراد کے خلاف نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ضلع بھر میں منشیات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کے خلاف مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے متعدد کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں، جن کے نتیجے میں مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ بیجبہاڑہ میں پولیس نے طبی ٹیم کے اشتراک سے ریپڈ ڈرگ ڈیٹیکشن کٹ کے ذریعے ڈرگ اسکریننگ مہم چلائی۔ اس دوران پانچ افراد کے منشیات استعمال کرنے کی تصدیق ہوئی، جن کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۸/۲۷کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
ملزمان کی شناخت غلام نبی حجام ولد غلام رسول حجام ساکن سیکوپ بیجبہاڑہ، خورشید احمد شیخ ولد محمد عبداللہ شیخ ساکن ٹاک محلہ بیجبہاڑہ، وسیم احمد دھوبی ولد غلام قادر دھوبی ساکن بدرو سری گفوارہ، شوکت احمد شیخ ولد غلام حسن شیخ ساکن شیخ محلہ بیجبہاڑہ اور سرتاج احمد چوری ساز ولد مرحوم محمد عبداللہ چوری ساز ساکن سیکوپ بیجبہاڑہ کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔
دریں اثنا، منشیات مخالف مہم کے تحت پولیس اسٹیشن کوکرناگ کو دو مشتبہ افراد کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی، جنہیں مختلف مقامات سے حراست میں لے کر طبی معائنہ کرایا گیا۔ طبی رپورٹوں میں دونوں افراد کے منشیات استعمال کرنے کی تصدیق ہوئی۔
اس سلسلے میں تنویر احمد ملک ولد مبارک احمد ملک ساکن زالنگام کے خلاف ایف آئی آر نمبر۷۵/۲۰۲۶ اور صبیر احمد تنتری ولد فاروق احمد تنتری ساکن زالنگام کے خلاف ایف آئی آر نمبر۶۷/۲۰۲۶؍این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۸/۲۷ کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ منشیات فروشی یا منشیات کے استعمال سے متعلق مستند معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔










