واشنگٹن، 9 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے 2 سے 3 دن میں معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح کہا اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’’وہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے اور اب دونوں نے میری کوششوں کے نتیجے میں حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’ہم ایک ایسے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں جو بہت، بہت اچھا معاہدہ ہوگا اور جو کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘
گزشتہ دو دنوں میں ایران اسرائیل کے ایک دوسرے پر دوبارہ حملوں کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے ایکسیوس کو انٹرویو میں کہا خطے کے 5 ممالک نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی، نیتن یاہو سے کہا تھا جنگ شروع کی تو انھیں تنہا چھوڑا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیر کو ایران سے پیغامات موصول ہوئے، جن میں کہا گیا تھا اسرائیل کارروائیاں بند کر دے تو تہران بھی حملے روکنے کے لیے تیار ہے، ایرانی مذاکرات کار ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا میں نے ایران کے خلاف اسرائیلی ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کی، میرا ماننا ہے ایران ایک معاہدے پر دستخط کرنے میں دل چسپی رکھتا ہے۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا گیا تو ممکن ہے اسرائیل ایران کے خلاف تنہا رہ جائے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کو ایران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی۔ اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات فون پر نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دے۔ رپورٹ کے مطابق اس گفتگو کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا تاہم ٹرمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی ردعمل کو چند دن کے لیے مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی رات نیتن یاہو نے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے مشاورت کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے حملوں سے متعلق امریکا کو اس وقت اطلاع دی جب میزائل ایران کی جانب داغے جاچکے تھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حملوں کی شدت کو محدود کروانے میں کامیاب رہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں شامل خطے کے پانچ ممالک نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جائیں اور معاہدے کی جانب پیش رفت ہو سکے۔ ٹرمپ کے مطابق اسی روز ایرانی حکام نے بھی امریکہ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کریں گے اور اسرائیل سے بھی کارروائی روکنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں مزید حملے روکنے پر آمادہ کیا۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور ایران اس پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔






