ممبئی، 4 جون (یو این آئی) ممبئی انڈینز نے شروعات تو بڑے دھماکے کے ساتھ کی لیکن انجام بے حد مایوس کن رہا۔ جو بھی شخص 29 مارچ اور 24 مئی کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں موجود تھا، وہ ان دونوں دنوں کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق محسوس کر سکتا تھا۔ سیزن کے افتتاحی میچ میں ممبئی انڈینز نے کولکاتا نائٹ رائیڈرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 220 رن کا بڑا ہدف بے خوف انداز میں حاصل کر لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ٹیم نے افتتاحی میچوں میں شکست کا 13 سال پرانا سلسلہ بھی توڑ دیا۔
اسٹیڈیم میں جشن کا سماں تھا۔ فرنچائز کے مالکان، جن میں مکیش امبانی بھی شامل تھے، اسٹینڈز سے نیچے آئے اور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ حریف ٹیم کے ارکان سے بھی ملے۔ ماہرین نے پیش گوئیاں شروع کر دیں کہ شاید یہ ممبئی انڈینز کا سیزن ثابت ہو۔ ٹیم واقعی اسی "ورلڈ الیون” جیسی دکھائی دے رہی تھی جس کا ذکر کوچ جسٹن لینگر نے کیا تھا۔
لیکن 24 مئی تک منظر نامہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔
خطرناک نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی کو جلد آؤٹ کرنے کے باوجود ممبئی انڈینز راجستھان رائلز کو شکست نہ دے سکی۔
پورے سیزن میں ممبئی نے تین مختلف کپتانوں اور 24 کھلاڑیوں کو آزمایا، جو کسی بھی ایک سیزن میں کسی ٹیم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے سب سے زیادہ کھلاڑی تھے۔ متنازع انتخاب، مسلسل تبدیلیاں اور 10 شکستوں نے ٹیم کو بے سمت بنا دیا۔
خاص طور پر سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ہوم میچ میں ممبئی انڈینز کی کمزوریاں کھل کر سامنے آئیں، جب وہ 243 رن کے بڑے مجموعے کا دفاع بھی نہ کر سکی۔ کئی مواقع پر تو یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہو جاتا تھا کہ ٹاس کے وقت ٹیم کی قیادت کون کرے گا۔
سیزن کے اختتام تک بحث کا رخ ممکنہ کپتانی تبدیلی اور موجودہ کپتان کی ممکنہ ٹریڈ تک پہنچ چکا تھا۔ یہ وہی ممبئی انڈینز تھی جو ماضی میں پانچ مرتبہ آئی پی ایل چیمپئن رہ چکی ہے، لیکن اس بار وہ اپنی سابقہ شان و شوکت سے بہت دور دکھائی دی۔






