نئی دہلی،9اپریل (یواین آئی ) دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں دہلی کیپیٹلز اور گجرات ٹائٹنز کے درمیان کھیلا گیا مقابلہ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا، جس میں گجرات نے محض ایک رن سے کامیابی حاصل کر لی۔ دہلی نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد پہلے بلے بازی کرتے ہوئے گجرات نے مقررہ اوورز میں 210 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف بنایا۔ جواب میں دہلی کیپیٹلز نے ہدف کے تعاقب میں کانٹے کی ٹکر دی اور بہترین مقابلہ) دیکھنے کو ملا، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ٹیم فتح کی لکیر پار نہ کر سکی اور گجرات ٹائٹنز نے ایک رن کے معمولی فرق سے یہ میچ جیت کر اپنی طاقت کی نئی پہچان درج کرائی۔ ہندوستان کے اس بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں شائقین کو ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا، جہاں آخری گیند تک جیت کا توازن دونوں طرف جھولتا رہا۔
آئی پی ایل کے سنسنی خیز مقابلے میں گجرات نے دہلی کو جیت کے لیے 211 رنز کا بڑا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں کے ایل راہول کی جارحانہ بلے بازی کے باوجود دہلی کی ٹیم مشکلات کا شکار نظر آئی۔ دہلی کے کپتان کے ایل راہول نے میدان کے چاروں طرف چوکے اور چھکے برساتے ہوئے محض 29 گیندوں پر اپنی ففٹی مکمل کی اور پرسدھ کرشنا کے ایک اوور میں مسلسل چار باؤنڈریز لگا کر گجرات کے باؤلنگ اٹیک کو بے بس کر دیا، تاہم وہ بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 92 رنز بنا کر محمد سراج کا شکار بنے۔ گجرات کی جانب سے راشد خان نے میچ کا پانسہ پلٹتے ہوئے اپنے جادوئی اسپیل میں بیک ٹو بیک وکٹیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے دہلی کی مڈل آرڈر بیٹنگ لائن کو بکھیر کر رکھ دیا۔ میچ کے دوران دہلی نے پاور پلے میں بغیر کسی نقصان کے 63 رنز بنا کر شاندار آغاز کیا تھا لیکن پاتھم نسانکا کے 41 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، جبکہ ڈیوڈ ملر کلائی کی چوٹ کی وجہ سے ‘ریٹائر ہرٹ’ ہونے کے باوجود اسٹبس کے رن آؤٹ ہونے پر دوبارہ کریز پر واپس آ گئے۔ دہلی نے 16 اوورز میں 150 کا ہندسہ تو عبور کر لیا ہے لیکن راشد کی نپی تلی گیند بازی نے رنز کی رفتار روک کر گجرات کی پوزیشن مستحکم کر دی ہے۔ دہلی کو آخر میں چھ گیندوں پر 13 رن کی ضرورت تھی۔ لیکن وپراج سات گیندوں میں 12 رن بناکر پرسدھ کرشنا کی گیند پر آوٹ ہوگئے ۔ آخر میں دہلی کو ایک گیند پر دو رن کی ضرورت تھی لیکن دہلی کی ٹیم ایک ہی رن بنا سکی اور اس طرح گجرات نے دہلی کو بے حد قریبی مقابلے میں ایک رن سے شکست دے کر مقابلہ جیت لیا۔






