لندن ،7 اپریل (یو این آئی )انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز کیون پیٹرسن نے ایک بار پھر کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ 45 سالہ پیٹرسن نے انکشاف کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت کی خواہش اور اس پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی ) کے ساتھ ہونے والے تنازع نے ان کا بین الاقوامی کیریئر وقت سے پہلے ختم کر دیا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں پیٹرسن نے الزام عائد کیا کہ ای سی بی نے آئی پی ایل کے ابتدائی سالوں میں ان کے خلاف باقاعدہ ‘وِچ ہنٹ’ (ظالمانہ مہم) شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے برطانوی اخبارات کو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا کیونکہ وہ آئی پی ایل کھیلنا چاہتے تھے۔
سابق کپتان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”میرا انگلینڈ کا کیریئر محض 33 سال کی عمر میں 104 ٹیسٹ میچز کے بعد ختم کر دیا گیا۔ اگر نظام میرے خلاف نہ ہوتا تو میں 150 سے 160 ٹیسٹ کھیل کر 12 سے 13 ہزار رنز بنا سکتا تھا۔ میں نے فرنچائز کرکٹ کے حق میں آواز اٹھا کر اپنے کیریئر کی قربانی دی۔”پیٹرسن نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام 8,181 رنز، 23 سنچریوں اور 47.28 کی اوسط کے ساتھ کیا۔
.کیون پیٹرسن کا ماننا ہے کہ ان کی بغاوت نے موجودہ دور کے انگلش کھلاڑیوں کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جوس بٹلر نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ پیٹرسن کی قربانیوں کی بدولت آج کے کھلاڑیوں کو فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔واضح رہے کہ کیون پیٹرسن کو سال 2025 میں دہلی کیپیٹلز کا مینٹور بھی مقرر کیا گیا تھا، تاہم وہ آج بھی اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے اختتام کو ایک ناانصافی قرار دیتے ہیں۔آج کیون پیٹرسن ایک خوشحال اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ان کا یہ بیان کرکٹ کی تاریخ کے ایک متنازع باب کو دوبارہ زندہ کر گیا ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی اور بورڈ کی انا کے ٹکراؤ نے ایک عظیم کیریئر کو وقت سے پہلے ختم کر دیا۔






