ڈھاکہ، 10 مارچ(یواین آئی ) شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کل ایک نئی تاریخ کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناکام پاکستانی ٹیم اب ون ڈے فارمیٹ میں ایک بالکل نئی اور نوجوان ٹیم کے ساتھ بنگلہ دیشی ٹائیگرز کا سامنا کرے گی۔ جہاں پاکستان نے اپنے اسکواڈ میں ‘ری سیٹ’ کا بٹن دباتے ہوئے 6 نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے، وہیں بنگلہ دیش سیاسی بحران کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی واپسی کا جشن ایک بڑی جیت کے ساتھ منانے کے لیے بے تاب ہے۔سیریز کا پہلا معرکہ 11 مارچ کو شیڈول ہے۔تاہم دونوں ہی سیریز جیتنے کے لیے پرعزم نظر آئے۔
بابر اعظم اور صائم ایوب کی عدم موجودگی میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر بالکل نیا نظر آئے گا۔ پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ایک نئے روپ میں نظر آئے گی۔ ٹیم میں 6 نئے (Uncapped) کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا۔صاحبزادہ فرحان، شامل حسین اور معاذ صداقت جیسے نوجوانوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں ٹیم کو ایک مستحکم آغاز فراہم کریں۔ پاکستان اس سیریز کو 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا پہلا زینہ قرار دے رہا ہے۔میزبان ٹیم تین ماہ کے طویل وقفے کے بعد میدان میں اتر رہی ہے۔ کوچ فل سمنز نے لٹن داس کو نمبر 5 پر کھلانے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، تاکہ مڈل اوورز میں اسپنرز کے خلاف رنز کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔ مہدی حسن میراز کی کپتانی میں بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔اس میچ کا مرکزِ نگاہ دو بڑے نام ہوں گے۔ بطور کپتان تیسری مسلسل سیریز جیتنے کا عزم رکھنے والے شاہین کے لیے اپنی بولنگ فارم بحال کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ورلڈ کپ میں ان کا اکانومی ریٹ (10.52) تشویشناک تھا، جس پر قابو پانا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ دسمبر 2023 سے آؤٹ آف فارم لٹن داس کے لیے یہ سیریز بقا کی جنگ ہے۔ مڈل آرڈر میں ان کا نیا کردار ان کے کیریئر کا رخ متعین کر سکتا ہے۔






