احمد آباد، 07 مارچ (یواین آئی) گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی بلے بازوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں روایتی انداز کو بدل کر جارحانہ بیٹنگ کو اپنی حکمتِ عملی کا مرکز بنا لیا ہے، جس کے باعث ٹیم اس فارمیٹ میں ایک خطرناک بیٹنگ طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔عام طور پر کرکٹ میں بلے باز کو شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی وکٹ کی حفاظت کریں اور بڑی اننگز کھیلنے پر توجہ دیں، لیکن ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی بلے بازوں نے اس روایت کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ اب ان کی حکمت عملی میں تیز کھیلنا اور خطرہ مول لینا اہم عنصر بن چکا ہے، جہاں ناکامی کو بھی کامیابی کے راستے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ہندوستانی ٹیم نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے کئی مرتبہ شاندار اسکور بنائے۔ فائنل سے قبل کھیلے گئے تین میچوں میں ہندوستان دو مرتبہ 250 سے زائد رنز بنانے میں کامیاب رہا، پہلے زمبابوے کے خلاف چنئی میں اور پھر سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف وانکھیڑے اسٹیڈیم میں۔
ان میچوں میں سنجو سیمسن نے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے متعدد چھکے لگائے، جن میں پاور پلے کے دوران جوفرا آرچر کی گیند پر مڈ وکٹ کے اوپر لگایا گیا چھکا خاص طور پر قابلِ ذکر تھا۔
سیمی فائنل میں شیوَم دوبے کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر بھیجا گیا تاکہ وہ اسپن بولنگ کے خلاف تیز کھیل سکیں اور انہوں نے بھی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے انگلینڈ کے بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔
ہندوستانی بلے باز اب حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے کم وقت لیتے ہیں اور اس کے بعد مسلسل جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے بولرز کے لیے غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں تلک ورما نے بھی ٹیم کی حکمت عملی کے تحت بیٹنگ آرڈر میں نیچے آ کر اہم کردار ادا کیا اور سیمی فائنل میں چند شاندار شاٹس کھیل کر سب کی توجہ حاصل کی۔
ہندوستانی ٹیم کی اس طاقتور بیٹنگ کی ایک وجہ آئی پی ایل بھی ہے جہاں کھلاڑی برسوں سے سخت مقابلے اور جارحانہ کھیل کے ماحول میں خود کو تیار کرتے آئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے آغاز سے اب تک ہندوستان پانچ مرتبہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 250 سے زیادہ رنز بنا چکا ہے، جبکہ اس فہرست میں اگلی ٹیم زمبابوے ہے جس نے تین مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔
ہندوستان کے بلے باز اب کریز پر بڑی اننگز کھیلنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ باؤنڈریاں لگانے کی سوچ کے ساتھ آتے ہیں۔ سنجو سیمسن نے بھی اپنی شاندار اننگز کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ٹیم کی حکمت عملی یہی ہے کہ بلے باز مسلسل باؤنڈریاں لگانے کی کوشش کریں۔
اسی حکمت عملی کی مثال ابھشیک شرما کی کارکردگی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جنہوں نے حالیہ میچوں میں زیادہ رنز نہیں بنائے مگر ہر بار تیز کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوئے۔ ٹیم مینجمنٹ کے نزدیک یہی انداز پوری بیٹنگ لائن اپ کو آزادی فراہم کرتا ہے، جہاں ہر بلے باز جانتا ہے کہ اس کی وکٹ کے بعد بھی اگلا کھلاڑی اسی جارحانہ انداز میں کھیلنے کے لیے تیار ہے۔
اسی وجہ سے ماہرین کا ماننا ہے کہ چاہے احمد آباد میں فائنل کی پچ قدرے سست ہی کیوں نہ ہو، ہندوستانی بیٹنگ لائن اپ آنے والے برسوں میں بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے معیار کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔






