کٹک، 09 دسمبر (یو این آئی )جنوبی افریقہ کے جارح مزاج بلے باز ڈیوڈ ملر اگلے سال ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے جنوبی افریقی ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کرنے کے عزم کے ساتھ ہندوستان کے خلاف پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز میں شرکت کر رہے ہیں۔
ملر جو اپنے کیریئر کے دوران جنوبی افریقہ کی وائٹ بال ٹیموں کا مستقل حصہ رہے ہیں، گزشتہ ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی شامل تھے جس میں پروٹیز کو بارباڈوس میں ہندوستان کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔
36 سالہ ملر ہیمسٹرنگ انجری اور انگلینڈ کی ایک ڈومیسٹک ٹی20 لیگ میں مصروفیت کے باعث 2025 میں جنوبی افریقہ کے کئی میچوں سے باہر رہے۔ ان کی آخری بین الاقوامی شرکت مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں ہوئی تھی۔
اب جب کہ ورلڈ کپ میں صرف چند ہفتے باقی ہیں، ملر پوری طرح فٹ ہیں اور ہندوستانی میں ہونے والی اس سیریز کو واپسی کا سنہرا موقع سمجھ رہے ہیں۔
ملر نے کٹک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا”واپس آکر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ گھر بیٹھ کر ٹیم کو کھیلتے دیکھنا بھی اچھا تھا، مگر دل ہمیشہ چاہتا تھا کہ میں میدان میں ہوں۔ میں نے پچھلے چند مہینوں میں اپنے جسم اور ٹریننگ کے نئے طریقوں پر کام کیا اور یہ وقت میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ اب خود کو مضبوط، فِٹ اور تیار محسوس کر رہا ہوں۔”
ٹی20 ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ ملر کی نظریں 2027 آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ پر بھی ہیں، جس کی میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے۔ملر نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں 356 رنز بنائے تھے اور اب ایک بار پھر ایک روزہ ٹیم میں واپسی کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے کہا ابھی کوچ شُکری کونراڈ سے تفصیلی بات نہیں ہوئی، لیکن واپسی کے بعد بات چیت ضرور ہوگی۔ بہت سے نئے کھلاڑی سامنے آئے ہیں اور مقابلہ سخت ہے، مگر میں اپنی تجربے سے ٹیم کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں۔ انتخاب کبھی بھی یقینی نہیں ہوتا، اس لیے سب کچھ وقت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ملر نے اعتراف کیا کہ 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ فائنل میں شکست نے ٹیم کو ابھی تک تکلیف پہنچا رکھی ہے، مگر انہیں یقین ہے کہ پروٹییز جلد ہی کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔”میں نے مختلف ٹیموں اور کامیاب کھلاڑیوں سے بات کی ہے۔ ورلڈ کپ جیتنے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہوتا یہ ٹیم ورک، مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کے اہم لمحات میں ڈٹ کر کھڑے ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔






