ہر سال ۳ دسمبر کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ معذورین‘‘ منایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر وعدوں اور دعووں کی بارش بھی شروع ہو جاتی ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ معذور افراد کے مسائل کم کرنے اور انہیں برابر مواقع فراہم کرنے کے لیے ریاست پوری طرح سنجیدہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دن گزر جاتا ہے، تقریبات کے اسٹیج اکھڑ جاتے ہیں، تصاویر اخبارات میں چھپ کر ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں، اور پھر اگلے سال تک اس طبقے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نظر نہیں آتا۔
جموں و کشمیر بھی اسی رویے کا شکار ہے۔ یہاں بھی دعوے بڑے کیے جاتے ہیں، تقریبات بھرپور طریقے سے منعقد ہوتی ہیں، لیکن عملی صورتِ حال یہ ہے کہ معذور افراد اپنے بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ کے مطالبات لے کر آج بھی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔
سرینگر میں عالمی یومِ معذورین کے موقع پر ہونے والا احتجاج اس تلخ حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جموں کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن کے سینکڑوں ارکان کو اس دن سڑکوں پر آنا پڑا، جو بذاتِ خود ریاستی نظام کی ناکامی کی گواہی ہے۔ یہ احتجاج صرف مطالبات کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک چیخ تھی…نظام کے سامنے یہ سوال رکھنے کی کہ آخر وہ لوگ، جو پہلے ہی جسمانی مشکلات سے دوچار ہیں، اپنے قانونی اور انسانی حقوق کے لیے بھی پریس انکلیو کے سامنے کیوں کھڑے ہوں؟ کیوں انہیں بار بار حکومت کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے دکھ، محرومی اور بے بسی کا شور بلند کرنا پڑتا ہے؟
۲۰۱۶ میں نافذ ’’رائٹس آف پرسنز وِد ڈس ایبیلیٹیز ایکٹ‘‘ کا اطلاق پورے ملک میں ہو چکا ہے۔ یہ قانون صرف کاغذی درجوں کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد معذورین کو باعزت، محفوظ اور سہل زندگی دینا تھا۔ مگر جموں و کشمیر میں یہ قانون سات سال بعد بھی پوری طرح نافذ نہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرشید بھٹ کا یہ کہنا کہ ’’ہم اب بھی اپنے قانونی حقوق کے عملی نفاذ کے انتظار میں ہیں‘‘ محض شکوہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ یہ اعتراف اس پورے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک آئینہ ہے کہ قانون بنانا کافی نہیں، اسے زمین پر اْتارنے کی ارادہ مندی بھی ضروری ہے، جو یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
معاشی مدد کی صورتِ حال بھی اتنی ہی تشویشناک ہے۔ معذور افراد کے لیے ماہانہ پنشن صرف ۱۲۵۰ روپے ہے‘جو آج کے دور میں گھر کے چند روز کے اخراجات بھی پورے نہیں کرتی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں یہ رقم سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ پنشن کم از کم ۳۰۰۰ روپے کی جائے، اور یہ مطالبہ کوئی غیر معقول خواہش نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست واقعی چاہتی ہے کہ معذور افراد بھی معاشرے کے باعزت شہری بن سکیں تو انہیں مالی کمزوری کے بوجھ سے نکالنے کے لیے مناسب تعاون ضروری ہے۔ اس کے بغیر مساوات کی کوئی بات حقیقت نہیں بن سکتی۔
روزگار کے مواقع کا مسئلہ تو کہیں زیادہ سنگین ہے۔ معذور نوجوانوں کے پاس تعلیم بھی ہے، ہنر بھی، ارادہ بھی، لیکن ریاست نے ان کے لیے نہ مناسب ماحول فراہم کیا، نہ سہولیات، نہ مواقع۔ سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا قانون موجود ضرور ہے، لیکن بھرتیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، اور نجی سیکٹر میں معذورین کے لیے کوئی حقیقی جگہ نہیں۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں، انہیں بے سود قرضوں تک رسائی بھی میسر نہیں۔ یہ قرضے انہیں چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں، مگر ریاستی اداروں کا رویہ اس سلسلے میں بے توجہی سے زیادہ کچھ نہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی صورتِ حال حوصلہ افزا نہیں۔ معذور طلبہ کے لیے سہولیات کی کمی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ نہ وہیل چیئر ریمپس مناسب تعداد میں موجود ہیں، نہ کلاس رومز قابل رسائی ہیں، نہ ٹرانسپورٹ کا انتظام، اور نہ ہی سائن لینگوئج مترجم یا امتحانی سہولیات۔ ایسے میں کسی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مقابلے کے میدان میں دوسرے طلبہ کے برابر کھڑا ہو سکے، ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ اس طبقے کے ساتھ اصل مسئلہ اْن کی جسمانی کمزوری نہیں بلکہ ہمارا سماجی و حکومتی رویہ ہے، جو انہیں ’’خصوصی ضرورت‘‘ رکھنے والا شہری تو سمجھتا ہے، لیکن ’’مساوی حق‘‘ رکھنے والا انسان نہیں۔
ہر سال۳ دسمبر کو حکومتیں دعوے کرتی ہیں کہ ’’تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی‘‘، ’’معذورین کی فلاح اولین ترجیح ہے‘‘ اور ’’ایسا نظام بنایا جا رہا ہے جو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے‘‘۔ لیکن اگلے ہی دن وہی لوگ پھر پالیسیوں کی دھول میں دفن ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ دعوے سچے ہوتے تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آتی۔
عالمی دن کے موقع پر معذور افراد کو سڑکوں پر کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ’’تقریبات‘‘ کی چمک حقیقت کی دھند کو نہیں چیر پاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ان افراد سے یہ توقع رکھتے رہیں گے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے بھی مسلسل لڑائی لڑتے رہیں؟ کب تک وعدوں کی مالا گھما کر انہیں خاموش کیا جاتا رہے گا؟
ریاستی حکام کی طرف سے اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت ایسا نظام بنانے کے لیے پرعزم ہے جو معذور افراد کے خوابوں اور امنگوں کے مطابق ہو۔ یہ جملہ جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی ادھورا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ جب تک اس عزم کے ساتھ عملی قدم شامل نہ ہوں، یہ الفاظ محض رسمی بیانات بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو روز احتجاج کر رہے ہیں، جنہیں ہر روز رکاوٹوں کا سامنا ہے، وہ بیانات سے زیادہ بے ساختہ اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ رائٹس آف پرسنز وِد ڈس ایبیلیٹیز ایکٹ پر فوری طور پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، پنشن میں خاطر خواہ اضافہ ہو، روزگار کے لیے کوٹہ اور بھرتیاں شفاف انداز میں ہوں، نجی سیکٹر میں معذورین کے لیے جگہ بنائی جائے، قرضوں کی سہولت آسان کی جائے، اور سب سے بڑھ کر تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، اور ٹرانسپورٹ کو قابل رسائی بنایا جائے۔ جب تک سماجی رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی، یہ کوششیں بھی ادھوری رہیں گی۔ معاشرہ انہیں ترس کھانے کے بجائے برابری دینے پر آمادہ ہو تو راستے آسان ہو سکتے ہیں۔
یہ طبقہ محض ’’خصوصی ضرورت‘‘ نہیں رکھتا، بلکہ بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ریاست انہیں وہ سہولتیں دے جو ان کا حق ہے، تو یہی لوگ اپنی کامیابی سے معاشرے کو بدل سکتے ہیں۔ مگر اسی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور سماج دونوں یہ سمجھیں کہ معذور افراد کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا جسم نہیں، بلکہ نظام کی بے حسی ہے۔ اور جب تک یہ بے حسی دور نہیں ہوتی، ہر ۳ دسمبر صرف ایک رسمی دن بن کر رہ جائے گا، اور معذور افراد کے احتجاج اس بات کی یاد دہانی بنے رہیں گے کہ عملی اقدامات کا وقت بہت پہلے گزر چکا ہے…اب مزید تاخیر کسی بھی طرح مناسب نہیں۔





