جمہوریت کے کسی بھی ملک میں پارلیمنٹ وہ مرکزی اسٹیج ہوتی ہے جہاں قوم نہ صرف اپنی اجتماعی عقل کو بروئے کار لاتی ہے بلکہ اپنی سمتِ سفر کا تعین بھی کرتی ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں عوامی مسائل زبان پاتے ہیں، حکومتی ترجیحات پرکھے جاتے ہیں، اور اپوزیشن حکومت کو جواب دہ بناتی ہے۔ پارلیمنٹ کی میز پر اٹھنے والا ہر سوال، ہر اعتراض اور ہر دلیل دراصل عوام کی آواز ہوتی ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ریاستوں کا استحکام اور قوموں کا مستقبل کھڑا ہوتا ہے۔
بھارت کی پارلیمانی تاریخ بھی اسی اصول کی وارث رہی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے پارلیمنٹ کا ماحول آہستہ آہستہ مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی تماشوں اور باہمی رسہ کشی کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس پر موجودہ سرمائی اجلاس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے تنقید کی اور کہا کہ پارلیمنٹ ڈرامہ دکھانے کی جگہ نہیں بلکہ ڈلیوری کی جگہ ہے۔ اس بیان پر اپوزیشن کا سخت ردعمل آیا اور پرینکا گاندھی نے کہا کہ ڈراما وہ ہے جب حکومت بحث کی اجازت نہ دے۔ اس لفظی جنگ کے پیچھے اصل سوال یہی ہے: پارلیمنٹ آخر کس کی ہے، اور اس کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
پارلیمنٹ بنیادی طور پر ایک ایسا فورم ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں برابر کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ یہاں اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ عوامی مسائل کو پوری شدت سے اٹھائے، حکومت کی پالیسیوں پر سوال کرے، کمزوریاں اجاگر کرے اور عوام کے حقوق کے تحفظ میں ایک مو





