انجمنِ اردو صحافت جموںکشمیر کے زیر اہتمام ہونے والا حالیہ سیمینار کئی ایسے سوالات چھوڑ گیا ہے جنہیں محض تقریر کے شور میں گم کر دینا ممکن نہیں۔
کیا واقعی کشمیر میں اردو صحافت زوال پذیر ہے؟یا معاملہ صرف مقامی اخبارات کے کمزور ہوتے ڈھانچے کا ہے؟یا پھر اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی مجموعی صحافت ‘ چاہے اردو ہو یا انگریزی‘ ایک بڑی تبدیلی کے دباؤ میں ہے؟
یہ سوالات محض بحث کا موضوع نہیں بلکہ کشمیر کے صحافتی منظرنامے کی بنیادی تشویش ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے تیز پھیلاؤ نے نہ صرف قارئین کے رویّے بدلے ہیں بلکہ پرنٹ میڈیا کا وہ اثر بھی کم کیا ہے جو کبھی سماج میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ آج دنیا بھر میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے کہ اخبارات کی سرکیولیشن گھٹ رہی ہے، قارئین ڈیجیٹل کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، اور پرنٹ جس ’وقفے‘میں خبر دیتا ہے، اس خلا کو ڈیجیٹل پوری رفتار سے بھر دیتا ہے۔
سیمینار میں ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ کشمیر کے اردو اخبارات اگر زوال کا شکار ہیں تو اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا ان کا معیار گر چکا ہے؟ کیا وہ جدید صحافتی تقاضوں سے نا آشنا ہیں؟ یا پھر اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کی گھٹتی تعداد انہیں کمزور بنا رہی ہے؟
کشمیر میں اردو صحافت کے سامنے کیا حقیقی چیلنج ہیں؟ یہ بحران کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں تک پہنچتا ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نئی نسل اردو میڈیا کو اپنا پیشہ کیوں نہیں بناتی؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس نے اس پوری بحث کو ایک نئے تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ اردو صحافت کا زوال دراصل پرنٹ میڈیا کے عالمی بحران کا حصہ ہے۔ بلاشبہ، ڈیجیٹل میڈیا کی تیزرفتاری، کم لاگت، اور فی الفور رسائی نے دنیا بھر میں پرنٹ اخبارات کے اثر کو کم کیا ہے۔ کشمیر بھی اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں۔ قارئین تیزی سے موبائل اسکرین کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور اخبارات کے لیے پرانی طرح کا مالی ماڈل چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ سرکیولیشن کم ہو رہی ہے، اشتہارات محدود ہو رہے ہیں، اور تقسیم کا روایتی نظام اپنی گرفت کھو رہا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر پرنٹ کے لیے ایک سخت حقیقت تشکیل دیتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ صرف میڈیم کی تبدیلی کا ہے؟ کیا اگر پرنٹ کے بجائے ڈیجیٹل میں زیادہ سرمایہ کاری ہو جائے تو اردو صحافت کی راہیں ہموار ہو جائیں گی؟ شاید نہیں، کیونکہ بحران کا ایک پہلو زبان اور اس کے قارئین سے متعلق ہے۔
گھروں میں اردو بولی جاتی ہے، محفلوں میں اردو شاعری سننے کے ذوق کی کمی نہیں، لیکن پڑھنے اور لکھنے کے معاملات میں صورتحال مختلف ہے۔ نئی نسل کے پاس بول چال کی سطح پر اردو موجود ضرور ہے، مگر صحافتی معیار کی تحریر… جو کہتی ہے کہ زبان شفاف بھی ہو، درست بھی ہو، اور پیغام کو نتائج تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو‘اس کے لیے وہ تیار نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں بحران محض ’پرنٹ کی کمزوری‘ نہیں رہتا بلکہ ’اردو کی کمزوری‘ بن جاتا ہے۔
مگر اس تمام بحث میں سب سے بنیادی اور تشویشناک پہلو وہ ہے کشمیر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے صحافت کی ڈگریاں لینے والے نوجوان اردو میڈیا میں کیوں نہیں جاتے؟ یہ سوال محض زبان کے ذوق یا ترجیح کا نہیں، بلکہ ایک پیشہ ورانہ، معاشی اور تعلیمی فیصلے کا ہے۔
جب صحافت کے اداروں میں بنیادی تدریس، نصاب، ریفرنس میٹیریل اور عملی ورکشاپوں کی زبان انگریزی ہو، تو ذہن بھی اسی سمت ڈھلتا ہے۔ طلبہ کو انگریزی میڈیا کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں، انگریزی اداروں کے پروفیشنلز مدعو کیے جاتے ہیں، اور ان کے سامنے وہی ماڈل رکھا جاتا ہے جو قومی یا عالمی میڈیا کا ہے۔ اس ماحول میں اردو صحافت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر بطور اصل پیشہ کم ہی پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان ذہنی طور پر اردو کو صحافتی پیشے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اسے ایک ’ثقافتی شناخت‘ تک محدود سمجھنے لگتے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک دوسری حقیقت بھی ہے، اردو میڈیا کے مالی وسائل محدود ہیں۔ نوجوان جب میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں وہی سوال درپیش ہوتا ہے جو ہر پیشہ ورانہ فیصلے کے وقت سامنے آتا ہے…مستقبل کی پائیداری، معاشی استحکام، اور ترقی کا امکان۔ انگریزی میڈیا اس لحاظ سے زیادہ مستحکم نظر آتا ہے، وہاں نہ صرف تنخواہیں بہتر ہیں بلکہ نیٹ ورک، مواقع اور ترقی کے راستے بھی زیادہ واضح ہیں۔ اس کے مقابلے میں اردو میڈیا ایک ایسا میدان دکھائی دیتا ہے جو محنت تو بہت مانگتا ہے مگر بدلے میں بہت کم دیتا ہے۔ ایسے میں نوجوان کیوں اپنا کیریئر ایسے راستے پر ڈالیں جس میں ان کے لیے تحفظ کم اور غیر یقینی زیادہ ہو؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں اردو صحافت کا بحران اپنے اصل رخ کو ظاہر کرتا ہے: یہ محض اردو زبان کا مسئلہ نہیں، بلکہ اردو میڈیا کے مستقبل پر عدم اعتماد کا مسئلہ ہے۔
جب نئی نسل اس صنعت پر اعتماد نہیں کرتی، جب اسے وہاں اپنے کیریئر کی مضبوط بنیاد نظر نہیں آتی، جب اسے تربیت کے دوران بھی اردو صحافت کے امکانات کم اور سائے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، تو پھر بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ زبان کی بقا کا تعلق بولنے والوں سے کم اور لکھنے، پڑھنے اور اسے پیشے کے طور پر اختیار کرنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو صرف اس وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب وہ تعلیم، روزگار اور ابلاغ کے بڑے دائروں میں جگہ رکھتی ہو۔ اگر اردو صرف غزل کی محبوب زبان ہو یا سینما کے چند مکالموں میں زندہ رہے، تو یہ اس کی ادبی زندگی تو ہے، پیشہ ورانہ زندگی نہیں۔ زبان تب مضبوط ہوتی ہے جب وہ فیصلوں، تحقیق، پالیسی، منڈی اور میڈیا کی زبان بھی ہو۔
لہٰذا کشمیر میں اردو صحافت کا بحران حل کرنا صرف اخباروں کو زندہ رکھنے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تعلیمی اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں اردو صحافت کی تربیت مؤثر، عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ اردو میڈیا اداروں کو خود اپنا کردار بدلنے کی ضرورت ہے… بہتر معاوضہ، بہتر ورکنگ ماحول، اور بہتر پروفیشنل ترقی کے راستے فراہم کیے جائیں۔ ساتھ ہی اردو اخبارات اور ویب پورٹل کو اپنی ڈیجیٹل موجودگی سنجیدگی سے قائم اور مضبوط کرنی ہوگی، کیونکہ نئی نسل اسی اسکرین پر زندہ ہے جہاں کل کی صحافت نے بھی زندہ رہنا ہے۔




