بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سرینگر اور دہلی میں مکالمہ :الطاف بخاری کی بر وقت تجویز

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-20
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال میں اعتماد سازی اور عوامی شمولیت کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران اس خطے نے کئی تاریخی موڑ دیکھے ہیں، اور ان میں سب سے اہم ۲۰۱۹ کا واقعہ ہے جب خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا۔ اس اقدام کے بعد جہاں بہت سے اصلاحات اور ترقیاتی منصوبے منظر عام پر آئے، وہاں مقامی عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا قیام بھی اتنا ہی اہم رہا۔ اسی پس منظر میں اپنی پارٹی کے صدر، سید الطاف بخاری کی حالیہ تجویز کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ سنجیدہ اور بامعنی مکالمہ شروع کرنا چاہیے، انتہائی بر وقت اور مثبت قدم کے طور پر سامنے آتی ہے۔
بخاری کی یہ تجویز محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک عملی اور حقیقی حل کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے اعتماد کو مضبوط بنایا جائے اور ان کے تحفظات اور خواہشات کو براہ راست سننے اور ان پر بات کرنے کا سلسلہ شروع ہو۔ یہی نقطہ دراصل مرکزی حکومت کے گزشتہ بیانات کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا ہے، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ کئی مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان سے بات چیت کرنے کے بجائے، جموں و کشمیر کے عوام سے بات چیت کو ترجیح دیں گے۔
مکالمے کا آغاز اگر واقعی عملی طور پر کیا جائے تو اس سے کئی مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ عوام میں اعتماد کی فضا قائم کرے گا۔ اعتماد کی کمی ہی اکثر بدگمانی، سیاسی انتشار اور سماجی کشیدگی کی جڑ ہوتی ہے۔ جب لوگ محسوس کریں گے کہ ان کی رائے سننے اور مدنظر رکھنے کا عمل شفاف اور حقیقی ہے، تو وہ نہ صرف حکومتی اقدامات کے ساتھ تعاون کریں گے بلکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام بھی یقینی بنے گا۔
دوسری جانب، یہ مکالمہ مقامی مسائل کی ترجیحی بنیاد پر نشاندہی کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ جموں و کشمیر میں تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات جیسے شعبے ہمیشہ عوام کی ترجیحات میں شامل رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور مقامی انتظامیہ اگر عوام کے ساتھ کھلے اور بامعنی مکالمے کا آغاز کریں تو یہ نہ صرف مسائل کی درست نشاندہی ممکن بنائے گا بلکہ عوامی رائے کی روشنی میں پالیسی سازی بھی کی جا سکے گی۔ نتیجتاً ترقیاتی منصوبے زیادہ موثر اور عوام دوست ہوں گے۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ یہ مکالمہ ’وائٹ کالر‘ یا تعلیم یافتہ طبقے میں انتہاپسندی کے بڑھتے رجحان کو بھی سمجھنے اور اس کے سدباب کے لیے راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ گزشتہ دہلی دھماکوں جیسے واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ بعض تعلیم یافتہ افراد بھی انتہا پسندی کی جانب راغب ہو سکتے ہیں۔ بخاری کی تجویز کے مطابق، عوام کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ اور مسائل کے کھلے اور شفاف حل کی کوشش نہ صرف عوامی اعتماد بڑھائے گی بلکہ ایسے حساس موضوعات پر مناسب اور بروقت اقدامات کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ جموں و کشمیر میں سنجیدہ مکالمے کی عدم موجودگی نے کبھی کبھار بدگمانی اور بے اعتمادی کو جنم دیا ہے۔ اگر حکومت عوام سے مسلسل اور حقیقی مکالمے کے لیے پالیسی وضع کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے تو نہ صرف یہ خطے میں سیاسی استحکام لائے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس طرح کا مکالمہ عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کر سکتا ہے، تاکہ ہر سطح پر شمولیت اور اعتماد پیدا ہو۔
مکالمے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ حکومت کو عوام کے حقیقی مسائل اور ان کی ترجیحات سے روشناس کراتا ہے۔ سیاسی بیانات اور ترقیاتی پروگراموں کے اعلان کے باوجود، اکثر منصوبے عوام کی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتے۔ جب عوام کو براہ راست سننے کا موقع ملے گا، تو پالیسی ساز زیادہ بہتر اور حقیقت پسندانہ فیصلے کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ، یہ عمل نہ صرف موجودہ بحرانوں کے حل میں مددگار ہوگا بلکہ آئندہ ممکنہ چیلنجز کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد قائم کرے گا۔ جب لوگ محسوس کریں کہ ان کی رائے حکومت تک پہنچتی ہے اور ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، تو وہ خود بھی امن قائم رکھنے اور خطے کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مکالمے کے لیے مناسب اور شفاف پلیٹ فارم ہونا چاہیے۔ یہ صرف رسمی بیانات یا سیاسی تقریریں نہیں ہوں، بلکہ حقیقی اور بامعنی مشاورت کا عمل ہونا چاہیے۔ مکالمہ میں مقامی عوام، نوجوان، خواتین، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور سیاسی نمائندے شامل ہوں تاکہ ہر طبقے کی رائے اور تجاویز کو شامل کیا جا سکے۔ اس طرح کا جامع مکالمہ نہ صرف مسائل کے حل میں مدد کرے گا بلکہ ایک شفاف اور عوام دوست حکومت کے قیام کا تاثر بھی دے گا۔
جموں و کشمیر میں اس قسم کا مکالمہ شروع کرنے سے نہ صرف موجودہ پالیسیوں اور منصوبوں کی اصلاح ممکن ہوگی بلکہ یہ آئندہ کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے گا کہ حکومت عوام کے ساتھ کھلے دل اور شفاف رابطے کے لیے تیار ہے۔ عوامی اعتماد میں اضافہ، سماجی ہم آہنگی، اور دیرپا امن قائم کرنا اسی کے ذریعے ممکن ہے۔
آخر میں، بخاری کی تجویز ایک عملی، بروقت اور مثبت پیشکش ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ نہ صرف عوام کی رائے سنے بلکہ اس کے مطابق اقدامات کرے۔ یہ صرف ایک سیاسی تقاضا نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اعتماد قائم کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی اخلاقی اور عملی ضرورت بھی ہے۔ سنجیدہ اور شفاف مکالمہ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے حکومت اور عوام کے درمیان دوریاں ختم ہو سکتی ہیں، اور خطے میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کا سنہری دور قائم ہو سکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ای ڈی کے الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ کئی مقامات پر چھاپے

Next Post

لداخ اور ہم

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

لداخ اور ہم

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.