نئی دہلی13نومبر(یواین آئی)
وزیراعلی تلنگانہ ریونت ریڈی کے تلنگانہ کو 2034 تک ایک کھرب ڈالر اور 2047 تک تین کھرب ڈالر والی معیشت بنانے کے ویژن کو جمعرات کو امریکہ۔ہندوستان اسٹریٹیجک پارٹنرشپ فورم کے سالانہ اجلاس میں عالمی تاجروں نے بھرپور تائید کی۔
ٹکنالوجی کے شعبہ کی سرکردہ شخصیت اور سابق سسکو سی ای او جان چیمبرس نے ریونت ریڈی کے ویژن کو بہادر، واضح اور قابلِ حصول قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے ریونت ریڈی کے ترقیاتی منصوبوں کو گیم چینجر قرار دیتے ہوئے ان کے سماجی اثرات کی ستائش کی۔
یو ایس آئی ایس پی ایف کے صدر و سی ای او ڈاکٹر مکیش آغی نے کہا کہ فورم تلنگانہ کی ترقی کے روڈ میاپ کی مکمل تائیدکرتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریونت ریڈی کی دعوت پر ہمارے بیشتر اراکین’تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ میں شرکت کریں گے جو 8 اور 9 دسمبر کو حیدرآباد میں منعقد ہوگی۔
اس میں ریاست کا جامع ویژن پیش کیا جائے گا۔ عالمی سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے منفرد فوائد اور کاروبار دوست ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہندوستان کی سب سے کم عمر،متحرک اور کامیاب ریاست ہے ۔ حیدرآباد مرکزی طور پر واقع، محفوظ اور عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور خوشگوار موسم کے لیے مشہور ہے ۔ ہم ہندوستان کی مارکٹ کے لئے گیٹ وے ہیں اور گلوبل کیپیبلیٹی سنٹرس کے لئے پسندیدہ منزل بن چکے ہیں۔
میں عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہماری ترقی کی کہانی میں شریک ہوں۔انہوں نے گزشتہ 23 ماہ میں کانگریس حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں ان کی ترجیحات میں خواتین کا معاشی بااختیار ہونا، معیاری تعلیم و مہارت کی فراہمی اور شہری ترقی شامل ہیں تاکہ حیدرآباد کو حقیقی معنوں میں عالمی معیار کا شہر بنایا جا سکے ۔انہوں نے ہارورڈ، اسٹینفورڈ اور آکسفورڈ جیسی سرکردہ یونیورسٹیوں کو حیدرآباد میں آف شور کیمپس قائم کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ آسان ویزا عمل اور کم لاگت سے گلوبل ساؤتھ کے طلبہ بھی آئیوی لیگ تعلیم تک رسائی حاصل کر سکیں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت فیوچر سٹی، موسی ندی کی بحالی، ریجنل رنگ روڈ، ریڈیل روڈس، حیدرآباد میٹرو توسیع اور نئے ڈرائی پورٹ جیسے منصوبے تلنگانہ کے شہری و صنعتی منظرنامہ کو یکسر بدل دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت فیوچر سٹی 30,000 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہندوستان کا سب سے جدید اور عالمی معیار کا شہری مرکز ہوگا جبکہ موسی ندی کی بحالی کے بعد لندن، ٹوکیو، دبئی یا سیول جیسے شہروں کا مقابلہ کرے گی جس سے حیدرآباد میں ایک نائٹ اکنامی پروان چڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو دنیا بھر میں چائنا 1 مینوفیکچرنگ متبادل کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے اور ریاست کی انفراسٹرکچر و گورننس اصلاحات کو عالمی صنعتوں کے لئے ترجیحی منزل بنانے پر کام ہو رہا ہے ۔اپنے خطاب کے اختتام پر ریونت ریڈی نے کہا کہ ہم حیدرآباد کی اہم سڑکوں کے نام گوگل، میٹا، ٹی سی ایس اور انفوسس کے نام پر رکھیں گے ۔
ہندوستان میں زیادہ تر سڑکیں سیاسی قائدین کے نام پر رکھی جاتی ہیں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اختراعات کرنے والوں اور معماروں کی ستائش کریں جو ہمارے مستقبل کو بنارہے ہیں۔








