نئی دہلی، 8 نومبر (یو این آئی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے گوہاٹی علاقائی دفتر نے آسام حکومت کے تحت اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ (او ڈی ایل) سیل کی اُس وقت کی کارگزار چیئرپرسن-کم-ڈائریکٹر اور ایڈیشنل چیف سکریٹری سیوالی دیوی شرما اور ان کے ساتھیوں سے وابستہ منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں 6.40 کروڑ روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد قرق کی ہے ۔
ای ڈی کے گوہاٹی دفتر نے یہ اطلاع دی ہے ۔
ای ڈی نے یہ کارروائی اسپیشل ویجیلنس پولیس اسٹیشن، چیف منسٹر اسپیشل سیل، آسام کی جانب سے سیوالی دیوی شرما اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آئی پی سی اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر کی۔ ان پر 105.76 کروڑ روپے کے سرکاری فنڈ میں خردبرد کا الزام ہے ۔
ای ڈی کے مطابق، تحقیقات سے پتہ چلا کہ 2017 سے 2021 کے دوران اپنے عہدے پر رہتے ہوئے شرما نے آسام اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی) کے تحت او ڈی ایل سیل کی چیئرپرسن-کم -ڈائریکٹر کے طور پر 347 غیر مجاز اسٹڈی سینٹرز کو منظوری دی اور 1,06,828 ٹرینیوں کو داخلہ دیا، جبکہ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (ایس سی ای آر ٹی)، نئی دہلی نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ دو سالہ ڈی ایل ایڈ پروگرام کے لیے صرف 59 اسٹڈی سینٹرز اور 27,897 ٹرینیوں کی منظوری دی تھی۔
ای ڈی نے بتایا کہ نتیجتاً شرما نے ان غیر مجاز ٹرینیوں سے 115.12 کروڑ روپے فیس وصول کی۔ سرکاری خزانے میں رقم جمع کرانے کے بجائے ، محترمہ شرما نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے او ڈی ایل سیل کے نام پر پانچ بینک اکاؤنٹس کھولے ، حالانکہ انہیں حکومت آسام کی جانب سے کوئی مالی اختیارات حاصل نہیں تھے ۔
ای ڈی نے مزید بتایا کہ سیوالی دیوی شرما اور ان کے ساتھیوں نے او ڈی ایل سیل کے ان اکاؤنٹس سے رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس، خاندان کے افراد اور قریبی رفقاء کے اکاؤنٹس میں منتقل کر کے خردبرد کی۔ اس کے بعد اس خردبرد شدہ رقم سے اپنے نام پر مختلف منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں خریدی گئیں۔
ای ڈی نے کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔










