ریاض 16 اکتوبر(یو این آئی ) دنیائے ٹینس کے نمبر ون کھلاڑی ہسپانوی ٹینس اسٹار کارلوس الکاراز نے کہا ہے کہ نمائشی (ایگزیبیشن)میچوں پر تنقید دراصل کھلاڑیوں کے مؤقف کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے، کیونکہ یہ مقابلے باقاعدہ ٹورنامنٹس کی طرح جسمانی و ذہنی طور پر سخت نہیں ہوتے۔22 سالہ ہسپانوی ٹینس اسٹار کارلوس الکاراز اس وقت سعودی عرب میں جاری سکس کنگز سلیم میں شرکت کر رہے ہیں، جس میں سربین ٹینس اسٹار نوویک جوکووچ، اٹلی کے ٹینس اسٹار جینک سینر،یونان کے ٹینس کھلاڑی سٹیفانوس سٹسیپاس، جرمنی کے الیگزینڈر زویروف اور امریکی ٹینس کھلاڑی ٹیلر فرٹز جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ یہ چار روزہ نمائش ٹورنامنٹ 15 اکتوبر سے جاری ہے اور نیٹ فلکس پر نشر کیا جا رہا ہے۔
نمائش مقابلے میں مجموعی انعامی رقم 4.5 ملین ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق فاتح کھلاڑی کو 6 ملین ڈالر تک انعام ملنے کا امکان ہے۔ایک میچ میں شرکت کے بعد کارلوس الکاراز نے کہاہم پر کیلنڈر کے بوجھ کی شکایت کے باوجود نمائش مقابلوں میں شرکت پر تنقید ہوتی ہے، لیکن لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ مقابلے صرف ایک یا دو دن کے ہوتے ہیں، جس میں ہم تفریحاً کھیلتے ہیں، جبکہ اصل ٹورنامنٹس 15 سے 16 دنوں پر محیط ہوتے ہیں اور ان میں مسلسل دباؤ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ کارلوس الکاراز نے حال ہی میں ٹوکیو اوپن جیتا تھا، تاہم دورانِ ایونٹ ان کے ٹخنے میں چوٹ لگی تھی، جس کے باعث وہ شنگھائی ماسٹرز سے دستبردار ہو گئے تھے۔ سعودی عرب میں جاری ایونٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھی مکمل طور پر فٹ نہیں ہوں، کھیلتے ہوئے شک ضرور رہتا ہے، لیکن بہتر محسوس کر رہا ہوں اور بھرپور انداز میں مقابلہ کروں گا۔کارلوس الکاراز سیمی فائنل میں ٹیلر فرٹز کا مقابلہ کریں گے، جنہوں نے پہلے راؤنڈ میں جرمنی کے الیگزینڈر زیویروف کو شکست دی۔ دوسرے سیمی فائنل میں اٹلی کے جینک سینر کا مقابلہ سربیا کے نوویک جوکووچ سے ہوگا۔





