دبئی، 25 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان اگرچہ ایشیا کپ کے فائنل میں جگہ بنا چکا ہے لیکن کیچ چھوڑنا اس کے لیے تشویش کی بات ہے جو آگے چل کر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس ایشیا کپ میں ہندوستان نے اب تک 12 کیچ چھوڑے ہیں، جو کسی بھی ٹیم کے مقابلے سب سے زیادہ ہیں۔ ان کی کیچنگ کی کامیابی کی شرح 67.5 فیصد ہے جو ہانگ کانگ چین کے بعد دوسرا سب سے خراب ریکارڈ ہے۔ چار کیچ ورون چکرورتی کی گیندبازی پر چھوٹے ہیں۔
ورون نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے بعد صاف لفظوں میں کہا، ’’یہ ٹیم آنے والے ورلڈ کپ تک ایک مشن کے تحت منتخب کی گئی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی فیلڈنگ میں بہتری لانی ہوگی اور یقیناً فیلڈنگ کوچ کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ پچھلے میچ کے بعد انہوں نے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا، لیکن آج کے بعد ان کے پاس ضرور کہنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔‘‘
اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ دبئی میں ’’رِنگ آف فائر‘‘ فلڈ لائٹس اور نمی کی وجہ سے گیند نیچے کھنچتی ہے اور آپ کے سامنے گر جاتی ہے۔
ورون نے کہا، ’’جیسا کہ کہا جاتا ہے، اس سطح پر آپ بہانے نہیں بنا سکتے۔ ایک ٹیم کے طور پر ہمیں یقیناً وہ تمام کیچ پکڑنا شروع کرنا ہوگا کیونکہ ہم فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں اور ہمیں وہ تمام کیچ لینے چاہئیں۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو یقیناً رِنگ آف فائر ایک چیلنج ضرور ہے۔ یہ کبھی کبھار نظروں میں آ جاتا ہے اور تھوڑی پریشانی دیتا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔‘‘





