نئی دہلی، 12 ستمبر (یو این آئی ) سپریم کورٹ نے جمعہ کو اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کی طرف سے ان کے خلاف درج مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت کو منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔
جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ نے محترمہ رنوت کو 2021 کے کسانوں کے احتجاج میں شامل ایک خاتون کے بارے میں ان کے قابل اعتراض ٹویٹ کے بعد دائر کیس میں راحت دینے سے انکار کر دیا۔بنچ نے ان کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا اور کہا آپ کے تبصروں کا کیا ہوگا؟ یہ کوئی سادہ ری ٹویٹ نہیں تھا۔ آپ نے اس میں مصالحہ ڈال دیا ہے ۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے سننے سے انکار کے بعد درخواست گزار نے درخواست واپس لے لی۔ بنچ نے انہیں یہ مشورہ دیا تھا۔محترمہ رنوت نے مبینہ طور پر ٹویٹر پر ایک پوسٹ کو ری ٹویٹ کیا تھا جس میں ایک بزرگ خاتون مظاہرین مہندر کور (شکایت کنندہ) کے بارے میں ان کے تبصرے تھے ۔
اس ری ٹویٹ میں انہوں نے لکھا، یہ وہی دادی ہیں جنہیں ٹائم میگزین میں سب سے طاقتور ہندوستانی کے طور پر دکھایا گیا تھا اور وہ 100 روپے میں دستیاب ہیں۔ محترمہ رنوت نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اسپیشل پرمیشن پیٹیشن دائر کی تھی، جس نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے یکم اگست کو ان کی اس (اداکارہ سے سیاست دان بنی کنگنا کی) درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے پنجاب کے بھٹنڈہ ضلع کے بہادر گڑھ جنڈیاں گاؤں کی 73 سالہ مہندر کور کی شکایت کو مسترد کرنے کی اپیل کی تھی ۔ بی جے پی ایم پی کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ نے سمن آرڈر جاری کرنے سے پہلے ریکارڈ پر موجود مواد پر مکمل غور کیا۔ انہوں نے 22 فروری 2022 کو بھٹنڈہ کے ایک مجسٹریٹ کے جاری کردہ سمن کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ مہندر کور نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ محترمہ رنوت نے مبینہ طور پر انہیں وہی ‘دادی’بلقیس کہہ کر ان کے خلاف ‘جھوٹے الزامات اور تبصرے ‘ کیے ہیں، جو شاہین باغ کے احتجاج کا حصہ تھیں اور بین الاقوامی میڈیا میگزین کے کوریج میں شامل تھیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کا ٹویٹ میں ذکر کردہ شاہین باغ کے مظاہرین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور (ان کی طرف سے ) موازنہ غلط، ہتک آمیز اور ان کی ساکھ کو خراب کرنا ہے










