نئی دہلی، 08 ستمبر (یواین آئی) سوریہ کمار یادو کی قیادت میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کھیلے جانے والے آئندہ ایشیا کپ 2025 میں سنجو سیمسن سابق ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا ٹی-20 میں بطور وکٹ کیپر بلے باز سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سنجو سیمسن کے ’نو لک سکس‘ (بغیر دیکھے لگایا گیا چھکا) کی بھی خوب چرچہ ہوئی تھی۔ جب وہ فارم میں ہوتے ہیں تو ان کے بلے کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیرالا لیگ میں انہوں نے صرف پانچ میچوں میں 30 چھکے لگاکر یہ ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی ٹی-20 کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور ایشیا کپ میں ان کو پلیئنگ الیون میں رکھنا ٹیم کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ ابھی طے نہیں ہے کہ وہ کس نمبر پر کھیلنے اتریں گے۔
سنجو اس ایشیا کپ میں دھونی کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ دراصل دھونی کے نام کسی وکٹ کیپر کے ذریعے بین الاقوامی ٹی-20 میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے 85 میچوں میں 52 چھکے لگائے ہیں۔ ابھی تک کوئی وکٹ کیپر بلے باز یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکا، لیکن سنجو سیمسن اس کے بہت قریب ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس وقت مکمل فارم میں ہیں۔ فی الحال سنجو 36 چھکے لگا چکے ہیں اور دھونی سے صرف 17 چھکے پیچھے ہیں۔ ایسے میں یہ امکانات کافی ہیں کہ سنجو سیمسن ایشیا کپ میں ہی دھونی کا ریکارڈ اپنے نام کر لیں۔ سنجو کے بعد رشبھ پنت کا نمبر آتا ہے جنہوں نے 35 چھکے لگائے ہیں اور دوسرے نمبر پر ہیں۔
ہندوستان کی ٹیم پریکٹس کے لئے دبئی روانہ ہو چکی ہے۔ سنجو بھی ٹیم میں شامل ہیں اور اسی لئے انہوں نے کیرالا لیگ درمیان میں ہی چھوڑ دی تھی۔ اب تک کھیلے گئے میچوں میں ان کا جارحانہ کھیل کسی سے چھپا نہیں ہے۔ کیرالا لیگ میں انہوں نے صرف پانچ میچ کھیلے، جن میں 368 رنز بنائے۔ اس دوران انہوں نے 24 چوکے اور 30 چھکے لگائے۔ ان میچوں میں انہوں نے چار نصف سنچریاں اور ایک سنچری بھی اسکور کی۔ ان کا ایک گیند پر 13 رن بنانا بھی خاص چرچہ میں رہا تھا۔ اسی لیگ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 186 رہا، جو واقعی قابلِ تعریف ہے۔
گزشتہ ایک سال میں ہی سنجو نے ٹیم انڈیا کے لئے بین الاقوامی ٹی-20 کھیلتے ہوئے 12 میچوں میں تین سنچریاں اسکور کی ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ زبردست فارم میں ہیں، ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ انہیں کس نمبر پر بلے بازی کے لئے بھیجا جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ وہ دھونی کا سب سے زیادہ چھکے لگانے والا ریکارڈ توڑ پاتے ہیں یا نہیں۔






