سریگر//
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے کہا ہے کہ اس کی کئی سفارشات کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے جو جموں و کشمیر میں کاروباری برادری کی امنگوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز مرکز کے زیر انتظام علاقہ کا پہلا بجٹ پیش کیا جس پر۱۲ء۱ لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں اور۲۰۲۵۔۲۶ کے لئے فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کی ایک سیریز کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
چیمبر نے انتیودیا انا یوجنا (اے اے وائی) گھرانوں کیلئے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کی فراہمی اور خواتین کے لئے مفت نقل و حمل کی خدمات متعارف کرانے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں سماجی مساوات کو فروغ دینے کے لئے اہم اقدامات ہیں۔
کے سی سی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے علاوہ مقامی کاریگروں کی مدد کے لئے سرینگر اور جموں میں پی ایم یونٹی مال کے قیام کا اعلان بھی بجٹ کا ایک اور اہم حصہ ہے۔
کشمیر میں نمائش مارٹ کے قیام کا مطالبہ کے سی سی آئی نے مرکز اور جموں و کشمیر دونوں میں گورننس کی مختلف سطحوں پر پیش کیا تھا۔
اس کے علاوہ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کیلئے اسٹریٹجک سرمایہ کاری منصوبے کے لئے ۷۵ کروڑ روپے مختص کرنا اچھا ہے، لیکن کے سی سی آئی نے بجٹ میں صنعتی شعبے اور عام تجارت کی بحالی کے لئے مزید فنڈنگ کی امید کی تھی۔
اس نے ۲۰۰۰ دستکاری اور ہینڈلوم کوآپریٹو کیلئے بجٹ کی حمایت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ثقافتی ورثے کیلئے مضبوط وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
چیمبر نے ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کیلئے مالی امداد اور رہنمائی کے پروگراموں کیلئے ۵۰کروڑ روپے مختص کرنے کی بھی تعریف کی۔
۳۱۰ کروڑ روپئے مختص کرنے کے ساتھ ۴۶ نئی انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی اور موجودہ اسٹیٹس کو اپ گریڈ کرنے کیلئے ۱۰۰ کروڑ روپئے مختص کرنا صنعتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی نشاندہی کرتا ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔
’’تعلیم کے شعبے میں ۱۰صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) میں نئے کورسز متعارف کروانا اور ۱۰۰۰ گریجویٹس کے لیے پلیسمنٹ ڈرائیوز مثبت اقدامات ہیں‘‘۔
چیمبر نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ سیاحتی مقامات پر سیوریج اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلئے۸۰کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔تاہم، کے سی سی آئی نے بجٹ کے حجم میں کمی پر مایوسی کا اظہار کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کے درمیان پانی کے انتظام کے لئے فنڈز کی عدم موجودگی کا ذکر کیا۔ ۲۰۲۴۔۲۵ کے بجٹ کا حجم ۱۸ء۱ لاکھ کروڑ روپے تھا۔
چیمبر نے کہا کہ کے سی سی آئی نے اندازہ لگایا تھا کہ اس سال کا بجٹ پچھلے سال کے بجٹ سے زیادہ ہوگا۔ تاہم، یہ توقع پوری نہیں ہوئی، کیونکہ موجودہ بجٹ کا حجم پچھلے سال کے اعداد و شمار سے کم ہے۔
چیمبر نے کہا’’اس کمی سے صنعت / کاروباری اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوتی ہے جو اہم معاشی چیلنجوں سے نمٹنے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے مزید خاطر خواہ مالی مدد کے خواہاں تھے‘‘۔
اس میں کہا گیا ہے کہ کے سی سی آئی کو امید ہے کہ بجٹ میں بے روزگاری کی بلند شرح کو دور کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
اس نے بیان میں کہا ہے’’روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے نمٹنے کے علاوہ کچرے کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لئے موثر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ حل کی فوری ضرورت ہے‘‘۔
کے سی سی آئی نے کہا کہ بجٹ میں دریاؤں اور آبی ذخائر میں مائع فضلے کے اخراج کو روکنے کے لئے مشترکہ ایس ٹی پیز کے ریگولیشن کو بھی ترجیح دی جانی چاہئے تھی، جس سے عوامی صحت کا تحفظ اور ماحولیاتی سالمیت کا تحفظ ہوگا۔









