تل ابیب، 4 نومبر (یو این آئی)
اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششوں میں تال میل قائم کرنے پر منگل کو اتفاق کیا۔ گزشتہ ہفتے ہوئے نیسٹ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔
عرب جوائنٹ لسٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، پارٹی کے سربراہ یوسف جبرین اور پارلیمانی گروپ کے رہنما احمد طیبی نے ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان سے ملاقات کی۔ اس دوران 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور دونوں جماعتوں کے درمیان تال میل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، 120 رکنی نیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 48 نشستیں جیتی ہیں۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کو 11 اور رام پارٹی کو آٹھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
بیان کے مطابق، دونوں فریقوں نے نیتن یاہو، بن گویر اور اسموٹریچ کی حکومت کو ہٹانے اور اس کی جگہ نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے پارلیمانی اکثریت کے استعمال میں اپنی مشترکہ دلچسپی پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جبرین اور طیبی نے اسرائیل کے عرب شہریوں کو درپیش اہم مسائل بھی اٹھائے اور ان کے حل کے لیے عملی اور ٹھوس اقداماتآگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں عرب شہریوں کا تناسب تقریباً 20 فیصد ہے۔









