نئی دہلی، 27 اکتوبر (یو این آئی) راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے منگل کو روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں اسٹیٹ ڈوما کے اسپیکر ویچیسلاو وولودین کی قیادت میں آنے والے روسی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی۔
انہوں نے 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں شرکت کرنے والے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی صدور اور وفود کے سربراہان کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا۔
روسی وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے میں روس کی مسلسل حمایت کے لیے اظہارِ تشکر کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان اور روس سال 2030 تک سالانہ دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کر لیں گے۔
روسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسٹر رادھا کرشنن نے وولودین کو دوبارہ اسٹیٹ ڈوما کا اسپیکر منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان پارلیمانی سطح پر باقاعدہ تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چیئرمین نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی حمایت میں روس کے مسلسل تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان اور روس کے درمیان 2030 تک سالانہ دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے حصول پر اعتماد ظاہر کیا۔ یہ ہدف دونوں ممالک کی قیادت کی رضامندی سے طے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 80ویں سالگرہ کی تیاریاں جاری ہیں۔ دوطرفہ تعاون کے دیگر اہم شعبوں میں بین علاقائی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے شامل ہیں۔
چیئرمین نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے اور اس کے جواب میں ہندوستانی افواج کے آپریشن سندور کے تناظر میں محترمہ کنی موئی کروناندھی کی قیادت میں پانچ ارکانِ پارلیمنٹ کے دورۂ روس اور گزشتہ دسمبر میں صدر ولادیمیر پوتن کے دورۂ ہندوستان کے دوران منعقدہ 23ویں ہندوستان۔روس سالانہ سربراہ اجلاس کا حوالہ دیا۔
مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں دونوں ممالک کی ترجیحات کو سمجھنے، تجربات کے تبادلے اور تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
چیئرمین نے پارلیمانی فورم میں شرکت کے لیے آئے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی صدور اور وفود کے سربراہان کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اس میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، برکس اور شراکت دار ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکر اور صدور، مرکزی وزراء، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے سکریٹری جنرل، مختلف ممالک کے عہدیداران اور دیگر ممتاز مہمانوں نے شرکت کی۔
نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی روایت قدیم زمانے سے رہی ہے۔ شمال میں ویشالی اور جنوب میں چولا حکمرانوں کے ‘کڈوولائی’ نظام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کو مادرجمہوریت قرار دیا۔
برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر انہوں نے کہا کہ یہ فورم عالمی تعاون کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ برکس ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف ثقافتیں، مالا مال تاریخیں اور متحرک معیشتیں ایک متوازن، جامع اور خوش حال عالمی نظام کے مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فورم میں ہونے والی بات چیت عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رکن اور شراکت دار ممالک کے درمیان اتحاد، مکالمے اور باہمی اعتماد کے ساتھ کام کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
مسٹر رادھا کرشنن نے برکس سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے اس خیال کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے برکس ممالک کو عالمی اختراع اور حل تلاش کرنے کے اہم مراکز قرار دیا تھا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 12واں برکس پارلیمانی فورم ان کوششوں کو آگے بڑھائے گا اور رکن و شراکت دار ممالک میں فروغ پانے والی اختراعات کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔






