ملکی ایئرلائنز کی پروازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد گزشتہ ستمبر میں ایک سال قبل کے مقابلے 6.49 فیصد کم ہو کر 1.18 کروڑ رہ گئی، جو 46 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب ہوائی مسافروں کی تعداد میں کمی درج کی گئی ہے۔
انڈیگو، ایئر انڈیا گروپ اور اکاسا ایئر کے مارکیٹ شیئر میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالی بحران سے دوچار اسپائس جیٹ کا مارکیٹ شیئر اب گھٹ کر ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال جنوری سے ستمبر تک ہوائی مسافروں کی تعداد میں 0.82 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔
یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 12.34 کروڑ سے کم ہو کر 12.24 کروڑ رہ گئی۔ مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے انڈیگو 65.4 فیصد کے ساتھ پہلے مقام پر برقرار ہے۔ کل 77.30 لاکھ مسافروں نے اس کی پروازوں میں سفر کیا۔ اس سے قبل، اگست میں اس کا مارکیٹ شیئر 65 فیصد تھا۔ اسپائس جیٹ کے شیئر میں کمی کا سب سے زیادہ فائدہ انڈیگو کو ہی ہوا ہے۔ ایئر انڈیا گروپ (جس میں ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس شامل ہیں) کا مارکیٹ شیئر بھی اگست کے 26.7 فیصد سے بڑھ کر 26.8 فیصد اور اکاسا کا 5.5 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد پر پہنچ گیا۔ اسپائس جیٹ کا شیئر اگست کے 1.2 فیصد سے کم ہو کر 0.6 فیصد رہ گیا۔ اس کی پروازوں میں 73 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔ ملک میں ہوائی مسافروں کی تعداد کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں میں کی گئی کٹوتی ہے۔ مارکیٹ میں مشترکہ طور پر 90 فیصد شیئر رکھنے والے ایئر انڈیا گروپ اور انڈیگو نے مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر بین الاقوامی اور ملکی پروازوں میں کٹوتی کی تھی جو اب تک جاری ہے۔ ڈی جی سی اے کے مطابق، مسافروں سے بھری نشستوں کے ساتھ اڑان بھرنے (پی ایل ایف) کے معاملے میں اکاسا ایر 88.1 فیصد کے ساتھ پہلے مقام پر رہی۔ انڈیگو کی دستیاب نشستوں میں سے ستمبر میں 81.1 فیصد بھری رہیں۔ اس معاملے میں 79.9 فیصد کے ساتھ ایر انڈیا گروپ تیسرے اور 78.8 فیصد کے ساتھ اسپائس جیٹ چوتھے مقام پر ہے۔







