نئی دہلی، 27 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی حکومت نے قومی شاہراہوں پر ٹول پلازا کے 20 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے اہل غیر تجارتی گاڑیوں کے مالکان کے لیے رعایتی مقامی پاس متعارف کرایا ہے، جو یکم نومبر سے نافذ ہوگا۔
وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں نے منگل کو بتایا کہ میونسپلٹی یا مقامی شہری حدود سے باہر واقع ٹول پلازا کے 20 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے اہل غیر تجارتی گاڑیوں کے مالکان کو اس پاس کے لیے سالانہ 1,500 روپے ادا کرنے ہوں گے، جبکہ میونسپلٹی یا مقامی شہری حدود کے اندر واقع ٹول پلازا کے دائرے میں رہنے والے اہل گاڑی مالکان کے لیے اس کی سالانہ فیس 3,000 روپے ہوگی۔
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے گاڑی کے مالک کے پاس درست اور فعال فاسٹیگ ہونا ضروری ہے۔ اہل گاڑی مالکان کسی مخصوص ٹول پلازا سے آمد و رفت کے لیے موجودہ ماہانہ پاس یا رعایتی مقامی پاس میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں گے۔ یہ پاس صرف اسی ٹول پلازا کے لیے قابلِ استعمال ہوگا جس کے لیے اسے جاری کیا گیا ہے اور اسے کسی دوسرے ٹول پلازا پر منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ سہولت ان قومی شاہراہوں یا ایکسپریس ویز پر دستیاب نہیں ہوگی جہاں ٹول فیس فاصلے کی بنیاد پر ‘کلوزڈ یوزر فیس کلیکشن سسٹم’ کے تحت وصول کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان مقامات پر بھی رعایتی مقامی پاس جاری نہیں کیا جائے گا جہاں مسافروں کے استعمال کے لیے سروس روڈ یا کوئی متبادل سڑک دستیاب ہے۔
سالانہ رعایتی مقامی پاس یکم نومبر سے اہل ٹول پلازوں پر دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ، یکم دسمبر سے اسے ‘راج مارگ یاترا ایپ کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکے گا۔
وزارت کے مطابق، اس ترمیم کو قومی شاہراہ ایکٹ، 1956 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قومی شاہراہ فیس (شرحوں کا تعین اور وصولی) (پانچویں ترمیم) ضابطہ، 2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت ان شرحوں میں ہر سال ترمیم کر سکتی ہے اور ایسی ترمیمات یکم اپریل سے نافذ ہوں گی۔
ملک بھر میں 13 کروڑ سے زیادہ فاسٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس نئی سہولت کا مقصد ٹول پلازا کے آس پاس رہنے والے اہل باشندوں کو کم خرچ سفر کا متبادل فراہم کرنا اور ان کی روزمرہ آمد و رفت کو آسان بنانا ہے۔






