ویلنگٹن، 27 اکتوبر (یواین آئی) نیوزی لینڈ کے خلاف ہندوستان کی شاندار جیت میں طوفانی سنچری بناکر پلیئر آف دی میچ بننے والے ابھیشیک شرما نے کہا ہے کہ انہوں نے ذہن میں اس اننگز کا تصور کیا تھا اور میدان پر بھی ویسا ہی ہوا۔
بڑے شاٹس کھیلنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ابھیشیک نے میچ کے بعد کہا،اس کی وجہ بہت سیدھی تھی۔ میں اور ویبھو سوریہ ونشی اپنی بلے بازی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ فیلڈنگ کے دوران ہم نے دیکھا تھا کہ گیند میں معمول سے کچھ زیادہ اچھال مل رہا ہے اور میدان کا ایک جانب کا حصہ چھوٹا ہے، جہاں ہم نشانہ بنا سکتے تھے۔ ویبھو نے اچھی شروعات کی اور وہیں سے ہم نے اپنی اننگز کو آگے بڑھایا۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے، لیکن سب کچھ تیاری پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے کوچنگ اسٹاف اور تھرو ڈاؤن کرانے والے گیندبازوں کو بہت کریڈٹ جاتا ہے۔ کل ہمارا پریکٹس سیشن اچھا رہا تھا اور میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ میں نے ذہن میں اس اننگز کا تصور کیا تھا اور ویسا ہی ہوا۔
سوشل میڈیا پر یوراج سنگھ کے اس مذاق کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ ابھیشیک نے اب تک 12 گیندوں پر نصف سنچری نہیں بنائی ہے، انہوں نے کہا، میں پہلے بھی اس بارے میں کہہ چکا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت وہ کس طرح کی کرکٹ کھیل رہے تھے (ہنستے ہیں)۔ اگر کوئی اس طرح بلے بازی کرنے اترتا ہے تو یہ آسان نہیں ہوتا۔ 12 گیندوں پر نصف سنچری بنانا آسان نہیں ہے۔ لیکن ہم اس بارے میں نہیں سوچتے۔ ہم صرف اپنی ٹیم کو میچ جتوانا چاہتے ہیں۔
ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے کہا، یہ سب دیکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ جب میں اور سنجو بلے بازی کے لیے آئے تو گیند سوئنگ ہو رہی تھی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ ان دونوں (اوپنرز) نے یہ کیسے کر دکھایا۔ بین الاقوامی سطح پر پانچ اوور میں 100 رنز بنتے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔”
بے خوف انداز میں کھیلنے کے بارے میں شریئس نے کہا، ”یہ بہت ضروری ہے۔ بیرون ملک کھیلنے پر آپ کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جن کھلاڑیوں نے اچھا مظاہرہ کیا ہے، انہیں اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے۔ دونوں نے جس طرح بلے بازی کی، وہ شاندار تھی۔ ابھی دو میچ باقی ہیں۔ امید ہے کہ وہ اسی فارم کو برقرار رکھیں گے۔ سفر اور جیٹ لیگ کے باوجود کھلاڑیوں نے جس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس سے میں بہت خوش ہوں۔ یہ واقعی حیران کن ہے۔”
انہوں نے کہا، ”جب ہم نے تیز گیندیں یا فل لینتھ گیندیں کیں تو بہت رنز گئے۔ اس لیے میں نے گیندبازوں سے یارکر ڈالنے کو کہا۔ اس سے ہم رن ریٹ کو 10 رنز فی اوور سے نیچے رکھنے میں کامیاب رہے۔ ہماری کوشش انہیں 200 رنز کے اندر روکنے کی تھی۔”






