نئی دہلی، 27 اکتوبر (یواین آئی) امور نوجوان و کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے نئی دہلی میں یونیسکو انٹرنیشنل کنونشن اگینسٹ ڈوپنگ اِن اسپورٹ کے تحت سی او پی 10 بیورو کی تیسری باضابطہ میٹنگ اور 2026-27 کے لیے فنڈ اپروول کمیٹی کی چوتھی باضابطہ میٹنگ کی صدارت کی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے بیورو آف انڈیا کو صاف ستھرے کھیلوں کے لیے ہندوستان کے عزم کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا، ہندوستان کا پختہ یقین ہے کہ کھیلوں میں بہترین کارکردگی کے ساتھ ہمیشہ دیانت داری بھی ہونی چاہیے۔ ہر کھلاڑی کو مقابلہ کرنے کا منصفانہ موقع ملنا چاہیے، جس میں کامیابی کا فیصلہ صلاحیت، تیاری اور سخت محنت سے ہو، نہ کہ ممنوعہ اشیا یا طریقوں سے۔
مرکزی وزیر کھیل نے نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایکٹ، 2022 اور اس میں 2025 کی ترمیم کے ذریعے ہندوستان کے اینٹی ڈوپنگ نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں اقدامات کے ذریعے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مزید مضبوط کیا گیا ہے اور جولائی 2026 میں یہ نافذ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں ایک اور ترمیم لانے کی تیاری ہے، جس کا مقصد کوچز اور سپلائی چین سے وابستہ متعلقہ فریقوں کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں سمیت دیگر خلاف ورزیوں سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوجداری دفعات متعارف کرانا ہے۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ہندوستان نے ڈوپنگ سے نمٹنے اور کھلاڑیوں کو ممنوعہ اشیا کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025-26 کے دوران نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے 7,000 سے زیادہ ٹیسٹ اور 350 سے زیادہ تعلیمی و بیداری سیشن منعقد کیے، جن میں 27,000 افراد نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ خطرے کی بنیاد پر ٹیسٹنگ اور انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات پر بھی توجہ دی گئی۔ ‘نو یور میڈیسن’ موبائل ایپلی کیشن پر ادویات سے متعلق پانچ لاکھ سے زیادہ سرچ کی جاچکی ہیں، جو کھلاڑیوں کو ادویات کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے ہر کلاس روم کے ٹول کٹ میں کھیلوں کی اقدار متعارف کرانے کے لیے امور نوجوان و کھیل کی وزارت، وزارت تعلیم اور یونیسکو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس پہل کا مقصد کلاس روم میں کھیلوں کی اقدار، اخلاقیات اور دیانت داری کو فروغ دینا اور لاکھوں نوجوان ذہنوں تک اس پیغام کو پہنچانا ہے۔
میٹنگ کا مقصد ڈوپنگ کے خلاف جنگ میں عالمی تعاون کو آگے بڑھانا اور کنونشن کے نفاذ کو مضبوط کرنا تھا۔ اجلاس میں عالمی اینٹی ڈوپنگ نظام میں سرکاری اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں سے متعلق ایک فریم ورک دستاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل کمپلائنس پلیٹ فارم کے ذریعے رکن ممالک کے ساتھ مل کر اینٹی ڈوپنگ تعلیم، صلاحیت سازی اور علمی تحقیق کو مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی۔ ایجنڈے میں وسائل اکٹھا کرنا، 2026 سے 2031 کے لیے فنڈ کی عملی حکمت عملی، کمپلائنس اور پائیدار عالمی اینٹی ڈوپنگ نظام کے لیے صلاحیت سازی بھی شامل تھی۔
افتتاحی اجلاس میں جمہوریہ آذربائیجان کے امور نوجوان و کھیل کے وزیر اور سی او پی 10 بیورو کے چیئرمین فرید غائبوف، کھیلوں میں ڈوپنگ کے خاتمے کے لیے فنڈ اپروول کمیٹی کے چیئرمین لیوک میک کین، حکومت ہند کے سکریٹری (کھیل) اور سی او پی 10 بیورو کے نائب چیئرمین ہری رنجن راؤ، یونیسکو میں سماجی پالیسی اور شمولیت کے ڈائریکٹر گستاوو میرینو اور زامبیا، اسپین اور روسی فیڈریشن سے سی او پی 10 بیورو و فنڈ اپروول کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔





