واشنگٹن، 24 اکتوبر (یو این آئی) امریکی انٹیلی جنس نے پتہ لگایا ہے کہ ایران نے مغربی ایشیا اور اس سے باہر امریکی سفارت کاروں اور حکام کو نشانہ بنانے کی کوششوں میںنمایاں اضافہ کیا ہے اور مبینہ طور پر قتل کی سازشیں اعلیٰ مراحل تک پہنچ چکی ہیں۔ نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، یہ انکشاف 23 اکتوبر کو وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک میمو میں کیا گیا ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات کے پیش نظر کئی سفارتی مشنوں میں عملے کی تعداد کم کر رہا ہے۔ ان خدشات میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کیے جانے کا امکان بھی شامل ہے۔
ایک صفحے پر مشتمل غیر خفیہ میمو میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے روبیو سے کہا کہ ایران کی جانب سے قتل کی مبینہ سازشوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ایسے مزید امریکی اہلکاروں کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت ہے، جنہیں فی الحال یہ معلومات حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
دستاویز میں نہ تو ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی گئی، نہ مغربی ایشیا سے باہر کے مخصوص ممالک کے نام بتائے گئے اور نہ ہی مبینہ سازشوں کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ تاہم، اس میں کہا گیا کہ متعلقہ انٹیلی جنس معلومات محکمہ خارجہ کے سینئر حکام کے ساتھ پہلے ہی شیئر کی جا چکی ہیں۔
کلیٹن نے حساس معلومات کے زیادہ سے زیادہ حصے کو کم درجے کی رازداری میں رکھنے کی پیشکش کی، تاکہ روبیو ممکنہ خطرے سے دوچار اہلکاروں کے وسیع تر حلقے کو خبردار کر سکیں۔
نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے مغربی ایشیا اور کئی دیگر ممالک میں امریکی اہلکاروں کو لاحق خطرے کا اندازہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح پر لگایا ہے۔
اخبار کے مطابق، ٹرمپ اور ان کے سینئر معاونین کو باقاعدگی سے اس معاملے پر بریفنگ دی جا رہی ہے، جبکہ تجزیہ کار گزشتہ تین ہفتوں سے امریکی سفیروں سمیت حکام کو لاحق خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ انٹیلی جنس معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے کارندے امریکہ میں موجود ہو سکتے ہیں اور یورپ میں بعض مقامات ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ایک دوسرے امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران کی بیرون ملک حملے کرنے کی صلاحیت محدود ہے اور اس کے عزائم، ان پر عمل درآمد کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔
اسی ماہ کے اوائل میں امریکی فضائیہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ اڈے پر تعینات بمبار طیاروں کو وہاں سے واپس بلا لیا تھا۔ یہ اقدام اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ ایران اس فوجی اڈے پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے جمعہ کو بتایا کہ محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات، لبنان، قطر اور اردن میں امریکی سفارت خانوں میں سفارتی اور سرکاری عملے کی تعداد کم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مشن کھلے رہیں گے، تاہم عملے کو صرف ضروری خدمات انجام دینے والے اہلکاروں تک محدود کیا جا رہا ہے۔








