نئی دہلی؍۲۳؍اکتوبر
وزارت خارجہ نے اروناچل پردیش میں بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں سے متعلق انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سربراہ شتروجیت کپور کے بیان پر پیدا ہونے والے تنازعے پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ نے اس معاملے کی تفصیلات کے لیے صحافیوں کو وزارت دفاع سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم، وزارت نے کہا کہ ’’بھارت اور چین کے سرحدی علاقوں میں صورت حال وقتاً فوقتاً اس وقت خراب ہوتی ہے جب چینی افواج گشت کے طے شدہ طریقۂ کار سے انحراف کرتی ہیں۔‘‘
ترجمان نے کہا ’’جیسا کہ ہم ماضی میں بھی واضح کر چکے ہیں، بھارت اور چین کے سرحدی علاقوں میں وقتاً فوقتاً اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوجاتی ہے جب چینی افواج گشت کے طے شدہ طریقۂ کار سے انحراف کرتی ہیں۔ دونوں ممالک زیرِ التوا مسائل کو حل کرنے اور حقیقی خطِ قبضہ (ایل اے سی) کے ساتھ غلط فہمیوں اور غلط اندازوں سے بچنے کے لیے موجودہ سفارتی اور فوجی طریقۂ کار سے استفادہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے دونوں فریقوں نے مناسب علاقوں میں حقیقی خطِ قبضہ کے بارے میں بہتر تفہیم پیدا کرنے کے طریقوں پر بات چیت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے‘‘۔
ترجمان نے کہا’’میں اس بات پر بھی زور دینا چاہوں گا کہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘
وزارت خارجہ کا یہ ردعمل انڈو تبتن بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے اروناچل پردیش میں صورت حال سے نمٹنے پر شوریہ کمانڈو ٹیموں کی تعریف کی تھی۔
راجستھان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کپور نے کہا، ’’گزشتہ چند دنوں کے دوران اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر فوجیوں کے آمنے سامنے آنے کی صورت حال پیدا ہوئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔‘‘
کپور نے ان واقعات میں چین کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ آئی ٹی بی پی کو پہاڑی علاقوں میں گوریلا کارروائیوں کے لیے ایک فورس کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور۲۰۰۴میں اسے سرحدی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں اپنے متعین کردہ فرائض سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔‘‘
ان کے یہ بیانات ایک ماہ بعد سامنے آئے ہیں جب بھارت اور چین نے اروناچل پردیش کے علاقے تکسنگ میں کشیدگی کی اطلاعات کے درمیان بات چیت کی تھی۔۶ستمبر کو بھارتی علاقے میں واقع واچا-دمائی سرحدی ملاقات کے مقام پر کور کمانڈر سطح کے مذاکرات ہوئے تھے۔
اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے سب سے پہلے ان مذاکرات کی خبر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق، کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بھارتی فوج کی بڑی تعداد اب بھی علاقے میں تعینات ہے۔
کانگریس نے اس معاملے کو لے کر مودی حکومت پر تنقید شروع کردی۔ پارٹی مئی اور جون۲۰۲۰ میں لداخ میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے مسلسل الزام عائد کرتی رہی ہے کہ موجودہ حکومت نے چین کے سامنے بھارتی علاقے سے متعلق معاملات میں پسپائی اختیار کی ہے۔
کانگریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا، ’’گلوان کے بعد، کیا اب اروناچل کی باری ہے؟ پریشان کن اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اروناچل پردیش کے مزید علاقوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ یہ بھارت کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ مودی حکومت کو اس معاملے پر فوری جواب دینا چاہیے۔‘‘
جمعہ کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی کہا کہ چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے سامنے صورت حال واضح کریں۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو چین سے متعلق پالیسی پر نریندر مودی حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اروناچل پردیش میں حالیہ فوجی آمنا سامنا کے واقعات پر حکومت نے نمایاں خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور بیجنگ کے ساتھ اس کا طرزِ عمل بھارت کی سرحدی سلامتی، اقتصادی مفادات اور تزویراتی خودمختاری کو متاثر کر رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے کہا کہ انڈو تبتن بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ حالیہ آمنا سامنا کے دوران فورس کی کارکردگی کی درست طور پر تعریف کی ہے۔ تاہم، انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت نے ان واقعات اور قومی سلامتی پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی بیان کیوں نہیں دیا۔
رمیش نے مودی پر طنز کرتے ہوئے لکھا، ’’خود ساختہ وشو گرو کی جانب سے چین کو سوچ سمجھ کر دی جانے والی رعایتوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘
اروناچل پردیش میں تکسنگ کے مقام پر فوجیوں کے آمنے سامنے آنے کے واقعے کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمائی میں ہونے والے کور کمانڈر سطح کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے رمیش نے کہا کہ مقامی باشندوں نے اطلاع دی ہے کہ گشت کے مقامات ایک بار پھر ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال کا موازنہ مشرقی لداخ میں پیش آنے والے واقعات سے کیا۔
رمیش نے چین پر اروناچل پردیش کے مقامات کے نام مسلسل تبدیل کرنے اور۶۰ ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ایک ڈیم تعمیر کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھارت کی ماحولیاتی سلامتی اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ سرحد پر پیدا ہونے والی تشویش کو چین پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اقتصادی انحصار سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









