سرینگر؍۲۳؍اکتوبر
جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سول سروسز (طبی نگہداشت اور الاؤنس) قواعد۱۹۹۰میں ترمیم کرتے ہوئے زیر کفالت افراد کے فوائد کے لیے ’’خاندان‘‘ کی تعریف ازسرنو متعین کی ہے اور مصنوعی طبی آلات کے اخراجات کی واپسی کی حدوں میں بھی تبدیلی کی ہے۔
نئے قواعد کے تحت خاندان کے افراد کو مکمل طور پر زیر کفالت اسی صورت میں تصور کیا جائے گا جب ان کی ماہانہ آمدنی۹ہزار روپے اور اس پر قابلِ اطلاق مہنگائی الاؤنس سے زیادہ نہ ہو۔ ترمیم کے بعد زیر کفالت طلاق یافتہ یا علیحدہ رہنے والی بیٹیوں اور سوتیلی ماؤں کو بھی خاندان کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ترمیم کے ذریعے دل کے علاج میں استعمال ہونے والے ان طبی آلات کی فہرست بھی وسیع کردی گئی ہے جن کے اخراجات کی واپسی کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی طبی آلات کے اخراجات کی واپسی کے لیے ایک مقررہ حد متعین کی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق اپولو گروپ، ایسکارٹس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ، آئی ایل بی ایس نئی دہلی اور جسلوک اسپتال ممبئی جیسے بڑے نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات کی واپسی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی میں قابلِ ادائیگی شرحوں تک محدود ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔









