اللہ میاں کی قسم! ہمارا بھی تو ایسا ہی ماننا ہے اور جاننا بھی کہ……. کہ آپ کے اور ہمارے ہاتھ میں صرف کوششیں کرنا ہے، نتائج اللہ میاں کے ہاتھ میں ہیں، کسی اور کے ہاتھ میں نہیں، آپ کے اور نہ ہمارے۔ لیکن……. لیکن مسئلہ کوشش کا ہے کہ ہم سے کوشش بھی نہیں ہو پاتی، ہم کوشش بھی نہیں کرتے ہیں……. اور جب ہم کوشش ہی نہیں کریں گے تو صاحب! نتیجہ کہاں سے آئے گا……. کہیں سے نہیں آئے گا، بالکل بھی نہیں آئے گا۔اب دیکھیے اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے……. معاف کیجیے، فرمانا ہے……. یہ فرمانا ہے کہ ان کی حکومت، ویسے ہمیں اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ ان کی کوئی حکومت ہے بھی، خیر! وزیرِ اعلیٰ صاحب کا فرمانا ہے کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کے ہر ایک علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے اور سو فیصد ہے۔یقین کریں کہ ان کے بیان سے کوئی بھی خوش ہوتا، ہم بھی……. لیکن وہ کیا کہتے ہیں نا کہ مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر’ اعتبار‘ ہوتا……. بس بات اعتبار کی ہے، اور کم بخت اعتبار ہی تو نہیں ہے، وزیرِ اعلیٰ صاحب کی اس بات کا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں……. ہم تو اب بھی یہ مان کے چلے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ صاحب دن، ہفتے، مہینے اور سال گن رہے ہیں اور اس لیے گن رہے ہیں کہ ان کا جاننا اور ماننا ہے کہ وہ پانچ سال بعد حساب دیں گے اور……. اور اسی لیے وہ کوشش بھی، معاف کیجیے، کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں، اس بات کی کوشش کہ حکومت کے پانچ برسوں میں ان کا لوگوں سے کیا ہوا ہر ایک وعدہ پورا ہو جائے گا، آہستہ آہستہ اور آہستہ سہی……. لیکن پورا ہو جائے گا۔اس لیے جب وزیرِ اعلیٰ صاحب نے یہ کہا……. ہمارا مطلب ہے کہ جب انہوں نے یہ فرمانا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں تو……. تو اللہ میاں کی قسم! ان کی اس بات پر ہمیں بالکل بھی یقین نہیں آیا اور دل نے چاہا کہ ہم انہیں بتائیں……. یہ بتائیں کہ وزیرِ اعلیٰ صاحب! اقتدار میں آپ کی چالیس فیصد مدت مکمل ہو گئی ہے اور آپ خود سے پوچھ لیجیے کہ کیا آپ نے ۴۰ فیصد وعدوں کو پورا کیا ہے……. یقیناً نتائج اللہ میاں کے ہاتھوں میں ہیں، لیکن آپ کیجیے نا……. کوشش۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔


