سرینگر؍۲۲؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے چند ہی روز بعد انا لتا سنہا کو ایک منفرد مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلع میں تعینات ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) شراب کی شدید لت میں مبتلا تھا، جس کے خلاف نہ صرف اعلیٰ افسران بلکہ مقامی باشندوں نے بھی شکایات درج کرائی تھیں۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے معاملے کا خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور ایک طبی افسر کی موجودگی میں ڈیوٹی کے دوران متعلقہ اے ایس آئی کی اچانک جانچ کی۔
الزامات کی تصدیق ہونے کے بعد ایس ایس پی نے اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے ضلع اسپتال رام بن کے زیر انتظام نشہ چھڑانے کے مرکز میں داخل کرکے علاج کرانے کا حکم دیا۔
۲۰۲۲یچ کی آئی پی ایس افسر انا لتا سنہا نے دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے اس کی فائل کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف پہلے بھی اسی نوعیت کی شکایات موجود تھیں۔‘‘
سنہا نے مزید کہا، ’’ہم نے موقع پر ہی اس کا طبی معائنہ بھی کرایا۔ کارروائی محض شبہے کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ پہلے تمام ضروری جانچ پڑتال کی گئی۔‘‘
۳۱ سالہ افسر نے۱۴؍ اکتوبر کو ایس ایس پی رام بن کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس سے قبل وہ جموں میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ہیڈکوارٹرز) کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
حکام کے مطابق، اس کارروائی کے دو مقاصد ہیں: ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں میں نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور متعلقہ اہلکار کو نشے کی لت سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرنا۔
ایس ایس پی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو ایک ماہ کے لیے ضلع اسپتال رام بن کے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجا جائے تاکہ شراب کی لت کا علاج کیا جا سکے۔ حکم نامے کے مطابق، طبی افسر نے تصدیق کی تھی کہ ڈیوٹی کے دوران شراب نوشی کے باعث مذکورہ اہلکار اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اس حکم سے قبل متعلقہ افسر کے خلاف نگران افسران، بشمول اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او)، اور عام شہریوں کی جانب سے تحریری شکایات موصول ہوئی تھیں۔
حکام کے مطابق، اس اقدام سے واضح پیغام جائے گا کہ ڈیوٹی کے دوران نشے کی حالت میں رہنے اور بد نظمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکام نے نشاندہی کی کہ رام بن ایک حساس ضلع ہے، جہاں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیاں بدستور سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے علاقے میں پولیس اہلکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔
ایس ایس پی انا لتا سنہا نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا، ’’ڈیوٹی کے اوقات میں کوتاہی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یو پی ایس سی امتحان پہلی ہی کوشش میں کامیاب کیا تھا۔
دہلی سے تعلق رکھنے والی ایس ایس پی سنہا ایک تعلیمی خاندان سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، جبکہ ان کی والدہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان کے شوہر بھی آئی اے ایس افسر ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ماضی میں بھی پولیس اہلکاروں کے نشے کی حالت میں پائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، تاہم کسی سینئر افسر کی جانب سے اصلاحی نوعیت کی ایسی کارروائی پہلی بار کی گئی ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کی شکایات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق، پہاڑی ضلع میں قومی شاہراہ کے ساتھ پلوں، ندی نالوں کے کناروں اور پہاڑی چوٹیوں جیسے دور افتادہ مقامات پر اہلکاروں کی تعیناتی بھی اس مسئلے کی ایک وجہ رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










