نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) ‘کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی۔ انہوں نے اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے معاملے میں ان کی عدالتی تحویل میں دو دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔
درخواست اس وقت واپس لی گئی جب جسٹس سبرامنیم پرساد نے متبادل قانونی راستہ دستیاب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے رٹ پٹیشن پر سماعت کرنے سے معذرت کا اظہار کیا۔ داس اور آشوتوش کو آج ایس ای ایم عدالت کے سامنے پیش کیا جانا ہے کیونکہ ان کی دو دن کی عدالتی تحویل کی مدت ختم ہو رہی ہے۔
جسٹس پرساد نے انہیں درخواست واپس لینے، مجسٹریٹ کے سامنے کارروائی میں شامل ہونے اور قانون کے مطابق قانونی طریقہ اپنا نے کا مشورہ دیا۔ عدالت نے معاملے کے میرٹ پر کوئی تبصرہ کیے بغیر درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔
سی جے پی رہنماؤں کے وکیل ابھیک چمنی نے اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی جانب سے 19 اکتوبر کو پاس کیے گئے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے نوٹس لیا کہ درخواست گزاروں پر جنتر منتر جا کر اپنے ‘ پیس بانڈ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے، جبکہ 11 اکتوبر کو جنتر منتر کو احتجاجی مظاہرے کے مقام کے طور پر نوٹیفائی کی گئی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔
دونوں کو 14 اکتوبر کو، امتناعی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کی کوشش کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے مچلکوں کی شرائط کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ 19 اکتوبر کو ان کی تحویل میں مزید دو دنوں کی توسیع کی گئی تھی۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ مبینہ خلاف ورزی میں جنتر منتر میں داخل ہونا شامل تھا جہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ، بیریکیڈنگ توڑنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مظاہرے کی جگہ کے طور پر نوٹیفائیڈ درجے سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے اور اعلیٰ ترین عدالت نے اس حکم پر کوئی اسٹے نہیں دیا ہے۔








