دوحہ، 21 اکتوبر (یو این آئی) فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں جاری احتجاج کے حوالے سے غیر ملکی رہنماؤں کے تبصروں کو ناقابل قبول اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ ان کے بیان کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر بالواسطہ حملہ سمجھا جارہا ہے۔
خلیجی ممالک کے دورے کے بعد دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ فرانس میں احتجاج کے دوران بیرونی مداخلت کے کوئی واضح شواہد نہیں ہیں، تاہم بیرونی عناصر تشدد سے متعلق معلومات میں ہیرا پھیری کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا،میرے نزدیک پیش آنے والے واقعات میں بیرونی مداخلت کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔ تاہم، معلومات میں بیرونی سطح پر ہیرا پھیری کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی لوگوں، بشمول غیر ملکی رہنماؤں، کی جانب سے ناقابل قبول اور احمقانہ تبصرے سامنے آئے ہیں۔
میکرون نے کہا کہ فرانس کو ایسے غیر ملکی رہنماؤں کی ضرورت نہیں ہے جو اس کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض رہنماؤں نے اپنے اپنے ملکوں میں انتخابات سے قبل فسادات سے متعلق مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد کو بھی، بعض اوقات بغیر تصدیق کے، دہرایا ہے۔
اگرچہ میکرون نے کسی رہنما کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے تبصروں کا رخ ٹرمپ کی جانب معلوم ہوتا ہے، جن کی ریپبلکن پارٹی کو نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔ اسی طرح ان کے بیان کو نیتن یاہو پر بھی تنقید سمجھا جارہا ہے، جن کے ملک میں اسی ماہ انتخابات ہونے والے ہیں۔
نیتن یاہو نے نیوز چینل ‘آئی 24 نیوز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کو ”انتہا پسند اسلام کے حملے” کا سامنا ہے اور فرانسیسی رہنماؤں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے بدامنی سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری نہیں کی۔ انہوں نے تشدد کا ذمہ دار انتہا پسند مسلمانوں کو ٹھہرایا، حالانکہ پیرس سمیت فرانس کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج میں متنوع گروپ شریک تھے۔
ٹرمپ نے بھی بدامنی کے لیے مسلمانوں کی نقل مکانی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے اپنی سرحدیں سخت نہ کیں اور ان کے بقول مجرموں کو باہر نہ نکالا تو اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”اگر یورپ اپنی سرحدیں بند نہیں کرتا اور احتجاج کرنے والوں جیسے مجرموں کو باہر نہیں نکالتا تو یورپ ختم ہوجائے گا۔ جب میں فرانس اور اٹلی کو دیکھتا ہوں اور وہاں کی بدامنی اور نفرت پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ اسکولوں کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کا معاملہ ہے جو ان ملکوں میں آرہے ہیں اور ان ہی ملکوں سے نفرت کرتے ہیں۔”
یہ بیانات ہفتے کے روز فرانس میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران پیش آنے والے تشدد کے بعد سامنے آئے۔ مظاہروں کے حاشیے پر ہونے والے ان واقعات کو فرانس میں کئی برسوں کے دوران شہری علاقوں میں بدترین تشدد کے واقعات میں شمار کیا گیا۔
بدامنی کے دوران مغربی ایشیا کا دورہ کرنے اور اتوار کو قوم سے خطاب کرنے پر میکرون کو اپنے ملک میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ خطاب میں صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔تاہم، فرانس واپسی سے قبل میکرون نے اصرار کیا کہ صورت حال اب بھی ان کے قابو میں ہے۔انہوں نے کہا، ”گھبراہٹ کا کوئی اشارہ نہیں ملنا چاہیے۔ میں اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہوں۔ میں اپنی جگہ پر موجود ہوں۔”









