کینبرا، 21 اکتوبر (یو این آئی) آسٹریلیا کی آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کی انتخابی دفتر کے باہر گاڑی سے ٹکر مار کر حملہ کیے جانے کے بعد دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑیں۔ ان کے شوہر نے یہ اطلاع دی۔ اس دوران حملے کے مشتبہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
فل ہینز نے بتایا کہ پیر کو میلبورن کے شمال مشرق میں واقع وانگارٹا میں ایک شخص نے اپنی گاڑی سے ہیلن ہینز کو دو مرتبہ ٹکر ماری، جس کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی بائیں ٹانگ کاٹ دی۔ انہوں نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈاکٹروں نے ان کی دائیں ٹانگ بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔
فل ہینز نے نامہ نگاروں سے کہا، اس پورے معاملے میں اچھی خبر یہ ہے کہ ہیلن زندہ ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ ہمارے خاندان کے لیے سب سے اہم بات یہی ہے۔
حملے کے مشتبہ ملزم کی شناخت 43 سالہ برینڈن نیوجنٹ کے طور پر ہوئی ہے، جسے بدھ کو مختصر سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس پر تین جرائم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جن میں خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے شدید چوٹ پہنچانا، جان بوجھ کر زخمی کرنا اور ایک عوامی عہدیدار کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزم پر بھنگ کی کاشت اور اسے اپنے قبضے میں رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق، ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو ایک نایاب اعصابی بیماری لاحق ہے، جسے ‘آئیڈیوپیتھک ٹرانسورس مائیلائٹس’ کہا جاتا ہے۔ وہ سر پر چوٹ لگنے کے بعد بھی صحت یاب ہو رہے ہیں۔
پولیس حملے کے محرکات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کی کمشنر کرسّی بیریٹ نے کہا کہ ایسا کوئی انٹیلی جنس انتباہ موجود نہیں تھا جس سے ہیلن ہینز کو لاحق کسی خطرے کا اشارہ ملتا۔
انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا، ”میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہمارے پاس ایسی کوئی مخصوص خفیہ اطلاع نہیں تھی جس سے پیر کی دوپہر پیش آنے والے اس انتہائی سنگین واقعے کا اندازہ لگایا جا سکتا۔”
ہیلن ہینز نے 2019 میں دیہی حلقے انڈی سے پارلیمنٹ کا انتخاب جیتنے سے قبل نرسنگ، دائی گری اور تدریس و تحقیق کے شعبوں میں کام کیا تھا۔ انہوں نے 2022 اور 2025 کے انتخابات میں بھی اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔
آسٹریلیا میں سیاست دانوں پر حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں منتخب نمائندوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی اور دھمکیوں میں اضافے کے باعث تشویش بڑھ رہی ہے۔









