جمعرات, اکتوبر 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافہ، ایک مستحسن فیصلہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-22
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

جموں کشمیر پراو آئی سی کا دوہرا معیار

ہریانہ میںکشمیر کی مسافر گاڑی پرپتھراؤ: واقعہ کی تہہ تک جانے کی ضرور ہے 

                جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے ماہانہ وظیفے کو۱۲ ہزار۳۰۰روپے سے بڑھا کر۲۵ ہزار روپے کرنے کی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی منظوری ایک مستحسن اور قابلِ ستائش فیصلہ ہے۔ طویل عرصے سے زیرِ التوا اس مطالبے کو تسلیم کرکے حکومت نے نہ صرف طبی شعبے سے وابستہ نوجوانوں کی مشکلات کو سمجھنے کا ثبوت دیا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لازمی انٹرن شپ انجام دینے والے طلبہ کی خدمات اور ضروریات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، اس فیصلے کی افادیت اسی وقت مکمل طور پر سامنے آئے گی جب متعلقہ محکمہ باضابطہ حکم نامہ جاری کرکے اس پر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔

                جموں و کشمیر میں طبی انٹرنز گزشتہ کئی ہفتوں سے وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً سات برس سے ماہانہ وظیفے میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ اس عرصے میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔۱۲ ہزار۳۰۰روپے ماہانہ کی رقم میں موجودہ حالات کے دوران اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنا یقیناً آسان نہیں، بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے جو اسپتالوں میں باقاعدہ ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں اور طبی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

                یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انٹرن شپ کوئی رسمی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ طبی تربیت کا ایک لازمی مرحلہ ہے۔ اس دوران انٹرنز کو عملی تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال اور اسپتالوں کے روزمرہ کاموں میں حصہ لینا پڑتا ہے۔ ان کی ذمہ داریاں وقت، محنت اور توجہ کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے میں مناسب وظیفہ فراہم کرنا کسی قسم کی رعایت نہیں بلکہ ان کی خدمات اور ضروریات کے مطابق ایک معقول اقدام ہے۔

                اس تناظر میں وظیفے کو بڑھا کر۲۵ ہزار روپے کرنا یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اضافے سے انٹرنز کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں کچھ سہولت ملے گی اور ان پر مالی دباؤ بھی نسبتاً کم ہوگا۔ اگرچہ انٹرنز کا مطالبہ۳۰ ہزار روپے ماہانہ وظیفے کا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے۲۵ ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری کو بھی مثبت قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھیں اور قابلِ عمل حل کی طرف پیش رفت کریں۔

                یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جموں و کشمیر کے طبی انٹرنز کو ملک کے کئی دوسرے حصوں میں انٹرن شپ کرنے والے اپنے ہم منصبوں کے مقابلے میں کم وظیفہ ملنے کی شکایت رہی ہے۔ مختلف ریاستوں اور خطوں میں وظیفے کی شرح میں فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس فرق کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکومتیں طبی انٹرنز کی ذمہ داریوں، مہنگائی اور مقامی حالات کو سامنے رکھ کر منصفانہ پالیسی اختیار کریں۔ طبی تعلیم کے شعبے میں معیار برقرار رکھنے اور نوجوان ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی معاملات کو مسلسل نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

                تاہم، حکومت کے فیصلے کے ساتھ ایک اہم پہلو بھی جڑا ہوا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ نے وظیفے میں اضافے کی منظوری دے دی ہے اور محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ضروری احکامات جاری کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، لیکن جب تک باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری نہیں ہوتا، اس فیصلے پر عمل درآمد کی صورت حال غیر واضح رہتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں مزید تاخیر نہ کرے اور فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرکے انٹرنز کی تشویش دور کرے۔ سرکاری فیصلوں کی بروقت تکمیل عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ غیر ضروری تاخیر شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔

                دوسری جانب انٹرنز کو بھی موجودہ پیش رفت کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ حکومت نے ان کے مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے وظیفے میں نمایاں اضافے کی منظوری دی ہے۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ تحریری حکم نامہ جاری ہوتے ہی وہ اپنا احتجاج ختم کرکے معمول کی ڈیوٹیوں پر واپس آجائیں گے۔ ان کے مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن احتجاج کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا کسی بھی صورت میں مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتا۔

                اس معاملے میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسپتالوں میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی مختلف مشکلات سے دوچار ہوتی ہے۔ طبی عملے کی کمی یا کام میں رکاوٹ سے مریضوں کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انٹرنز بھی اسی طبی نظام کا حصہ ہیں اور ان کی خدمات بالخصوص مصروف اسپتالوں میں اہمیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

                حکومت اور انٹرنز، دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تصادم کے بجائے بات چیت اور اعتماد کی فضا میں مسائل کا حل زیادہ بہتر انداز میں نکل سکتا ہے۔ حکومت کو اپنے اعلان کو عملی شکل دینے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے، جبکہ انٹرنز کو بھی باضابطہ حکم نامہ جاری ہونے کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مستقبل میں وظیفے کی شرح پر نظرثانی کے لیے کوئی واضح طریقۂ کار وضع کیا جائے تو اس نوعیت کے تنازعات سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

                ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ جموں و کشمیر میں طبی تعلیم اور صحت کے شعبے سے وابستہ نوجوانوں کے مسائل کو محض احتجاج کے بعد حل کرنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر سنا جائے۔ طبی انٹرنز، جونیئر ڈاکٹروں اور دیگر طبی کارکنوں کے لیے بہتر کام کے حالات، مناسب معاوضہ اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنا صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک مطمئن اور پُرعزم طبی عملہ ہی مریضوں کو بہتر خدمات فراہم کرسکتا ہے۔

                امید کی جانی چاہیے کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم جلد تحریری حکم نامہ جاری کرے گا اور انٹرنز بھی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے احتجاج ختم کریں گے۔ بالآخر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ طبی انٹرنز کے جائز مطالبات کا احترام کرے، اور انٹرنز کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ عہد اور مریضوں کی خدمت کے تقاضوں کو مقدم رکھیں۔ یہی طرزِ عمل اس مسئلے کے منصفانہ حل اور جموں و کشمیر کے طبی نظام کی بہتری کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اسے کہتے ہیں وفاداری !

Next Post

اُدھم پور میں مسافر بس کو حادثہ‘ خاتون اور۶سالہ بچی ہلاک 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں کشمیر پراو آئی سی کا دوہرا معیار

2026-10-21
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ہریانہ میںکشمیر کی مسافر گاڑی پرپتھراؤ: واقعہ کی تہہ تک جانے کی ضرور ہے 

2026-10-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

سینئر بیوکریٹ کی ایک خاتون افسر کی تذلیل             

2026-10-18
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جمہوریت کا تحفظ، احتجاج اور عدلیہ کا کردار

2026-10-14
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کابینہ میں رد و بدل یا کارکردگی کا امتحان؟

2026-10-11
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

این او سی کیلئے ۲۱ دن کی مدت: بدعنوانی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم          

2026-10-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر کی جنگلی حیات کی واپسی

2026-10-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

سڑکوں کی کھدائی کا مستقل حل؟

2026-10-07
Next Post
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی

اُدھم پور میں مسافر بس کو حادثہ‘ خاتون اور۶سالہ بچی ہلاک 

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.